محتسب گرچہ دل آزار ہے میخوارون کا — شیخ ابراہیم ذوق

محتسب گرچہ دل آزار ہے میخوارون کا دیکے اک جام تو بے یارا بھی یارون کا

“Though the censor is a tormentor of those who love their wine, Grant him but a single cup, and he too becomes a friend of friends.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

اگرچہ محتسب شراب پینے والوں کا دل دُکھانے والا ہے، پھر بھی اُسے ایک جام پلا دو تو وہ بھی بے سہاروں اور یاروں کا یار بن جاتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اُس محتسب پر لطیف چوٹ کرتا ہے جو میخواروں کو ستاتا اور اُن پر سختی کرتا ہے۔ مگر کہتا ہے کہ یہی سخت گیر اگر ایک جام نوش کر لے تو وہ بھی بے یاروں کا یار بن جائے۔ اس میں چھپی گہری بات یہ ہے کہ انسانی فطرت یکساں ہے — جو دوسروں کو روکتا ہے، موقع ملتے ہی خود اُنہی میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ ریاکاری پر ایک مسکراتا ہوا طنز ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.