غزل

پھر حشت عشق مین لیلی کو کیا اوٹھلا

پھر حشت عشق مین لیلی کو کیا اوٹھلا

یہ غزل لیلیٰ اور مجنوں کی تمثیل کے ذریعے عشق کے جنون، آوارگی اور بے خودی کی کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ اس میں دیوانگانِ عشق کے ہجوم، ان کے والہانہ جذبے اور صحرانوردی کی جذباتی شدت کو نہایت پراثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

Source: Divan-e-Turab · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
फिर हश्त-ए-इश्क़ में लैला को क्या उठला बन में क्यों फिरता हो मजनूँ बरहना सर खुला
پھر حشت عشق مین لیلی کو کیا اوٹھلا بن مین کیون پھرتا ہو مجنون برہنہ سرکھلا
عشق کے صحرا میں لیلیٰ کو کیا ناز یا گلہ تھا، ورنہ مجنوں جنگل میں برہنہ اور ننگے سر کیوں بھٹکتا پھرتا؟
2
यार कहता हो हुजूम-ए-आशिक़ान मजलिस में देख बतरह से आज दीवानों का याँ दफ़्तर खुला
یار کہتا ہو ہجوم عاشقان مجلس مین دیکھ بطرح سے آج دیوانون کا یان دفتر کھلا
محبوب محفل میں عاشقوں کا ہجوم دیکھ کر کہہ رہا ہوگا کہ آج یہاں عجیب طرح سے دیوانوں کا پورا دفتر ہی کھل گیا ہے۔
3
इक इशारेमें फ़िदा करता हो दिलको अल-ईमान तेग़-ए-अबरू का हो उसके मू ब-जौहर खुला
اک اشاریمین فدا کرتا ہو دلکو الایمان تیغ ابرو کا ہو اوسکے مو بوجوہر کھلا
ایمان کی قسم، محبوب کے ایک ہی اشارے پر دل قربان ہو جاتا ہے جب اس کے ابرو کی تلوار کا ہر ہر جوہر کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔
4
किसतरह छुपता भला मज़मून इश्क़िम मेरा लेगया था ख़त मेरा ग़लती से नामा-बर खुला
کسطرح چھپتا بھلا مضمون عشقیم مرا لیگیا تھا خط مرا غلطی سے نامہ بر کھلا
میرے عشق کا راز بھلا کیسے چھپ سکتا تھا، جب نامہ بر غلطی سے میرا خط کھلا ہی لے گیا تھا۔
5
हाथ की मुट्ठी नहीं खुलती हो जिसकी बुख़्ल से कब वो रखता हो वहाँ कीसा-ए-ज़र खुला
ہاتھ کی مٹھی نہین کھلتی ہو جسکی بخل سے کب وہ رکھتا ہو وہان کیسہ زر کھلا
جس شخص کی مٹھی کنجوسی کی وجہ سے کبھی نہیں کھلتی، وہ بھلا وہاں سونے کی تھیلی کب کھلی رکھے گا۔
6
उड़ गया पर झाड़ के कुंद हर कोई सय्याद सैद-ए-वहशी का तेरे फ़ौरन जो बाल-ओ-पर खुला
اُڑ گیا پر جھاڑ کے کند ہر کوئی صیاد صید وحشی کا ترے فورا جو بال و پر کھلا
جیسے ہی تمہارے وحشی شکار کے پر کھلے، وہ پر جھاڑ کر فوراً اڑ گیا اور ہر شکاری بے بس اور حیران رہ گیا۔
7
क़ुव्वत-ए-इस्लाम ज़ाहिर हो गई कुफ़्फ़ार पर हाथ मुश्किलकुशा के जब ख़ैबर खुला
قوت اسلام ظاہر ہو گئی کفار پر ہاتھ مشکلکشا کے جب خیبر کھلا
جب مشکل کشا (حضرت علی) کے ہاتھوں خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو کافروں پر اسلام کی طاقت و شوکت ظاہر ہو گئی۔
8
ग़ोल बंद के चले में बहर-ए-विलायत कीतरफ़ शेर-ए-हक़ जल्द आख़ीरे कुफ़्र का बंदर खुला
غول بند کے چلے مین بہر ولایت کیطرف شیر حق جلد آخیرے کفر کا بندر کھلا
لوگ گروہ بنا کر ولایت کے سمندر کی طرف چل پڑے ہیں؛ اے شیرِ خدا جلد تشریف لائیے کیونکہ کفر کا بندر کھل چکا ہے۔
9
ज़ाहिद अब हुजरा में बैठा मूंद के आँखें तुराब ख़ौफ़ हो हूर-ओ-निगार के किसतरह से दर खुला
زاہد اب حجرہ مین بیٹھا موند کے آنکھین تراب خوف ہو حور و نگار کے کسطرح سے در کھلا
اے تراب، زاہد اب اپنی کوٹھری میں آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہے؛ حوروں اور حسیناؤں کے خوف سے بھلا اس کا دروازہ کیسے کھلا رہ سکتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.