“The ascetic sits in seclusion now with shut eyes, O Turab; in fear of houris and enchanting beauties, how could his door stay open?”
اے تراب، زاہد اب اپنی کوٹھری میں آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہے؛ حوروں اور حسیناؤں کے خوف سے بھلا اس کا دروازہ کیسے کھلا رہ سکتا ہے۔
اس شعر میں ترابؔ نے زاہد کی ظاہری پارسائی پر بڑے دلکش اور طنزیہ انداز میں چوٹ کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ زاہد اپنے حجرے میں آنکھیں موندے اس خوف سے بیٹھا ہے کہ کہیں کسی حور یا حسینہ کی جھلک اس کے کچے تقوے کو متزلزل نہ کر دے۔ شاعر دراصل یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جو پارسائی حسن اور زندگی سے ڈر کر حجروں میں چھپ جائے، اس کی پختگی اور سچائی پر سوال اٹھنا تو فطری سی بات ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
