غول بند کے چلے مین بہر ولایت کیطرف شیر حق جلد آخیرے کفر کا بندر کھلا

“Marshaled in swarms, they depart across the foreign sea; / Arise swiftly, O Lion of God, for the ape of infidelity has broken free!”

— شاہ تراب علی قلندر
معنی

لوگ گروہ بنا کر ولایت کے سمندر کی طرف چل پڑے ہیں؛ اے شیرِ خدا جلد تشریف لائیے کیونکہ کفر کا بندر کھل چکا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر بڑی دردمندی اور جوش کے ساتھ باطل قوتوں کی یلغار کا نقشہ کھینچتا ہے، جو سمندر پار سے گروہ در گروہ چڑھائی کر رہی ہیں۔ یہاں کفر اور فتنے کی سرکشی کو ایک بے لگام 'بندر' سے تشبیہ دی گئی ہے جو کھل کر ہر سو انتشار پھیلا رہا ہے۔ ایسے پرآشوب وقت میں شاعر 'شیرِ حق' یعنی شجاعت و صداقت کے مجسمے کو فریاد کرتا ہے تاکہ وہ جلد آ کر حق کی فتح کا علم بلند کریں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.