“The might of Islam was made manifest before the infidels, when by the hand of the Solver of Sorrows, Khaybar was forced wide open.”
جب مشکل کشا (حضرت علی) کے ہاتھوں خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو کافروں پر اسلام کی طاقت و شوکت ظاہر ہو گئی۔
یہ شعر تاریخِ اسلام کے ایک نہایت روشن اور ولولہ انگیز باب، یعنی فتحِ خیبر کی یاد دلاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب حضرت علیؑ—جنہیں محبت سے 'مشکل کشا' پکارا گیا ہے—نے اپنے زورِ بازو سے خیبر کا ناقابلِ تسخیر در کھولا، تو زمانے پر حق اور ایمان کی حقیقی طاقت ظاہر ہو گئی۔ اس شعر کی خوبصورتی اس گہرے احساس میں ہے کہ سچے یقین اور الٰہی مدد کے سامنے باطل کی بڑی سے بڑی دیوار بھی ریت کا ڈھیر ثابت ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
