اُڑ گیا پر جھاڑ کے کند ہر کوئی صیاد صید وحشی کا ترے فورا جو بال و پر کھلا

“The moment the feathers and wings of your wild quarry opened, it shook its plumage and flew away, leaving every hunter completely baffled.”

— شاہ تراب علی قلندر
معنی

جیسے ہی تمہارے وحشی شکار کے پر کھلے، وہ پر جھاڑ کر فوراً اڑ گیا اور ہر شکاری بے بس اور حیران رہ گیا۔

تشریح

یہ شعر دل کے اس وحشی پرندے کی دلکش تصویر کشی کرتا ہے جو دنیا کے کسی جال میں قید نہیں رہ سکتا۔ جیسے ہی آپ کے اس شکار نے اپنے پر کھولے، وہ ہر بندھن کی خاک جھاڑ کر ایسی اڑان بھرا کہ تمام شکاری حیران اور بے بس ہو کر رہ گئے۔ یہ دراصل عشق کی عطا کردہ اس سرکش آزادی کا جشن ہے جس کے آگے دنیا کی کوئی زنجیر یا فریب ٹک نہیں سکتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.