“At a single gesture it commands the heart to yield in sacrifice—by my faith! When every fine grain in the steel of her brow's sharp sword is laid bare.”
ایمان کی قسم، محبوب کے ایک ہی اشارے پر دل قربان ہو جاتا ہے جب اس کے ابرو کی تلوار کا ہر ہر جوہر کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔
اس شعر میں عاشق محبوب کے محض ایک اشارے پر دل و جان نچھاور کرنے کا والہانہ اعتراف کر رہا ہے۔ شاعر نے محبوب کی تیکھی ابرو کو ایسی آبدار اور پُرکشش تلوار سے تشبیہ دی ہے جس کی ساخت کا بال بال اور جوہر عیاں ہو کر چمک رہا ہے۔ اس قاتلانہ ادا کو دیکھتے ہی عاشق اپنے ایمان کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ دل خودبخود اور بصد شوق اس تیغ کے آگے جھک جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
