پھر حشت عشق مین لیلی کو کیا اوٹھلا بن مین کیون پھرتا ہو مجنون برہنہ سرکھلا

“What grievance then could Laila bear in love's barren wasteland, why else would Majnun roam the wilds, bareheaded and exposed?”

— شاہ تراب علی قلندر
معنی

عشق کے صحرا میں لیلیٰ کو کیا ناز یا گلہ تھا، ورنہ مجنوں جنگل میں برہنہ اور ننگے سر کیوں بھٹکتا پھرتا؟

تشریح

اس شعر میں شاعر نے لیلیٰ اور مجنوں کی لازوال محبت کے استعارے سے سچے عشق کی بے خودی کو واضح کیا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ اگر مجنوں کے عشق میں کوئی کمی تھی، تو وہ دنیا جہاں سے بے نیاز ہو کر بن میں سر برہنہ کیوں بھٹکتا پھر رہا ہے؟ مجنوں کا صحراؤں میں تنہا اور بے حال پھرنا دراصل اس لازوال جذبے کی زندہ گواہی ہے جس میں انسان اپنی ذات کو بھی بھلا دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.