“How could the secret of my love ever remain concealed? By mistake, the messenger had borne my letter unsealed.”
میرے عشق کا راز بھلا کیسے چھپ سکتا تھا، جب نامہ بر غلطی سے میرا خط کھلا ہی لے گیا تھا۔
اس شعر میں عاشق اپنے رازِ محبت کے افشا ہونے کا احوال ایک دلکش اور حسرت بھرے انداز میں بیان کر رہا ہے۔ غزل کی روایت میں عشق کو چھپانا لازم سمجھا جاتا ہے، مگر یہاں نامہ بر کی ذرا سی بے پروائی نے دل کا سارا ماجرا زمانے پر آشکار کر دیا۔ کھلا ہوا خط دراصل اس بے ساختہ محبت کا استعارہ ہے جو لاکھ چھپانے پر بھی تقدیر کے ہاتھوں ظاہر ہو کر ہی رہتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
