غزل
نہو مست الست اب وہ کیونکر بھلا
نہو مست الست اب وہ کیونکر بھلا
یہ صوفیانہ غزل عہدِ الست کی روحانی سرمستی اور عشقِ حقیقی کے اسرار و رموز کو بیان کرتی ہے۔ وحدت الوجود کے فلسفے کے تحت شاعر اس راز کو طشت از بام کرتا ہے کہ سائل اور مجیب دراصل ایک ہی حقیقت کے مظاہر ہیں، جس کی معرفت سالک کو بے خودی اور وجد میں مبتلا کر دیتی ہے۔
Source: Divan-e-Turab · HI
نغمہ سنیں
1
नहो मस्त अलस्त अब वो क्यूँकर भला
जिसे बादा-ए-अदक़ा लवास्त मिला
نہو مست الست اب وہ کیونکر بھلا
جسے بادۂ عدقا لواست ملا
بھلا وہ شخص الست کی مستی میں کیوں نہ ڈوبا رہے جسے ازل کے عہد کی روحانی شراب مل چکی ہو۔
2
वो आपी था साइल ऊपर पी मुजीब
कहूं किस से ये राज़ मैं बरमला
وہ آپی تھا سائل اوپر پی مجیب
کہون کس سے یہ راز میں برملا
وہ خود ہی مانگنے والا تھا اور خود ہی قبول کرنے والا؛ اب میں یہ راز کھلم کھلا کس سے بیان کروں؟
3
कहीं ख़ुद हुआ शम्अ-ए-मजलिस-फ़रोज़
कहीं आपी परवाना हो कर जला
کہیں خود ہوا شمع مجلس فروز
کہیں آپی پروانہ ہو کر جلا
کہیں وہ خود محفل کو روشن کرنے والی شمع بن گیا، اور کہیں خود ہی پروانہ بن کر جل گیا۔
4
कहीं तुख़्म हो कर छुपा ख़ाक में
कहीं शाख़-ए-सजरा हो फूला फला
کہیں تخم ہو کر چھپا خاک میں
کہیں شاخ سجرہ ہو پھولا پھلا
کہیں یہ بیج بن کر مٹی میں چھپا رہتا ہے، تو کہیں درخت کی شاخ بن کر پھولتا اور پھلتا ہے۔
5
मंसूर और सरमद सा कोई मुतक़ीन बकता हो
जोन क़ैस हुआ तो क्या फ़रहाद हुआ तो क्या
منصور اور سرمد سا کوئی متقین بکتا ہو
جون قیس ہوا تو کیا فرہاد ہوا تو کیا
اگر کوئی منصور اور سرمد کی طرح پارسا بن کر بہکی بہکی باتیں بکتا ہو، تو اے جون! تم قیس بن گئے تو کیا اور فرہاد بن گئے تو کیا فرق پڑتا ہے۔
6
दरवेश हो जंग वारस्ता दर आलम से
यक़ीन हुआ तो क्या आज़ाद हुआ तो क्या
درویش ہو جنگ وارستہ در عالم سے
یقین ہوا تو کیا آزاد ہوا تو کیا
چاہے تم دنیا سے بے تعلق اور آزاد ایک درویش ہی کیوں نہ ہو، اگر تمہیں یقین حاصل بھی ہو گیا یا تم آزاد بھی ہو گئے تو کیا فرق پڑتا ہے۔
7
मग़रूर अबस हो गो दुनिया पे कोई काफ़िर
फ़िरऔन हुआ तो क्या शद्दाद हुआ तो क्या
مغرور عبث ہو گو دنیا پہ کوئی کافر
فرعون ہوا تو کیا شداد ہوا تو کیا
دنیا کی دولت یا طاقت پر غرور کرنا بالکل بےکار ہے؛ اگر کوئی شخص فرعون یا شداد جیسا طاقتور بھی بن گیا تو اس کا کیا فائدہ؟
8
जब तूती-ए-दाना को दामीकी नहो परवा
तब दाम हुआ तो क्या सय्याद हुआ तो क्या
جب طوطی دانا کو دامیکی نہو پروا
تب دام ہوا تو کیا صیاد ہوا تو کیا
جب دانا طوطے کو جال کی کوئی پروا نہیں ہوتی، تو پھر جال اور شکاری کے وجود کی کوئی حیثیت یا اثر نہیں رہتا۔
9
हो सीन न तमीज़ आई ख़ोरी ओ बुज़ुर्गी की
शागिर्द हुआ तो क्या उस्ताद हुआ तो क्या
ہو سین نہ تمیز آئی خوری و بزرگی کی
شاگرد ہوا تو کیا استاد ہوا تو کیا
اگر عمر گزرنے پر بھی چھوٹے اور بڑے یا عیب و ہنر کی تمیز نہ آئی، تو انسان کا شاگرد ہونا یا استاد بننا بے معنی ہے۔
10
हो याद मुझे जिसकी हर लहज़ा दहर लम्हा
इक रोज़ तुराब ओसको मैं याद हुआ तो क्या
ہو یاد مجھے جسکی ہر لحظہ دہر لمحہ
اک روز تراب اوسکو مین یاد ہوا تو کیا
جس کی یاد مجھے ہر گھڑی اور ہر لمحہ رہتی ہے، اگر کسی ایک دن اسے میں یاد آ بھی گیا تو اے تراب، اس سے کیا حاصل یا کیا فرق پڑتا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
