مغرور عبث ہو گو دنیا پہ کوئی کافر فرعون ہوا تو کیا شداد ہوا تو کیا

“Why swell with empty pride over this world so vain? What if one were Pharaoh, or Shaddad in their reign?”

— شاہ تراب علی قلندر
معنی

دنیا کی دولت یا طاقت پر غرور کرنا بالکل بےکار ہے؛ اگر کوئی شخص فرعون یا شداد جیسا طاقتور بھی بن گیا تو اس کا کیا فائدہ؟

تشریح

اس شعر میں شاعر انسان کو دنیاوی جاہ و حشمت پر بیجا غرور کرنے سے بڑی محبت سے خبردار کر رہے ہیں۔ وہ فرعون اور شداد جیسے طاقتور اور جابر بادشاہوں کی مثال دیتے ہیں، جن کی بے پناہ دولت اور سلطنتیں بھی انہیں انجامِ کار موت سے نہ بچا سکیں۔ شاعر کا مقصد یہ یاد دلانا ہے کہ جب ایسی لازوال طاقت کے دعوے دار مٹی کا ڈھیر ہو گئے، تو اس چند روزہ فانی دنیا پر اترانا کتنی بڑی خام خیالی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.