جب طوطی دانا کو دامیکی نہو پروا
تب دام ہوا تو کیا صیاد ہوا تو کیا
“When the wise bird cares nothing for the snare, what matters then the trap, and what the hunter?”
— شاہ تراب علی قلندر
معنی
جب دانا طوطے کو جال کی کوئی پروا نہیں ہوتی، تو پھر جال اور شکاری کے وجود کی کوئی حیثیت یا اثر نہیں رہتا۔
تشریح
شاعر نے طوطیٔ دانا یعنی ایک ہوش مند پرندے کو آزاد اور خوددار روح کا استعارہ بنایا ہے۔ جب انسان دنیا کے خوف اور لالچ سے بے نیاز ہو جائے، تو حالات کا جال اور صیاد کی کوئی بھی تدبیر بے معنی ہو جاتی ہے۔ اصل آزادی باطن کی بے خوفی میں ہے، جس کے بعد کوئی قید یا ستم اثر انداز نہیں ہو سکتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
