“Why should he not be rapt in primal ecstasy, who has tasted the wine of the Primordial Covenant?”
بھلا وہ شخص الست کی مستی میں کیوں نہ ڈوبا رہے جسے ازل کے عہد کی روحانی شراب مل چکی ہو۔
یہ شعر تصوف کی اس خوبصورت روایت کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے ’روزِ الست‘ کہا جاتا ہے، جب تمام روحوں نے اپنے خالق کی ربوبیت کا اقرار کیا تھا۔ شاعر فرماتے ہیں کہ جس خوش نصیب نے ازل کے اس پاکیزہ عہد کی محبت بھری شراب چکھ لی ہو، وہ بھلا سرور اور دائمی بے خودی میں کیوں نہ ڈوبا رہے؟ یہ اسی سچے اور روحانی نشے کی بات ہے جو انسان کو دنیا کے تمام غموں سے بے نیاز کر کے رب کی یاد میں مست کر دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
