“Somewhere He became the candle illuminating the feast; somewhere turning into the moth, He burned Himself away.”
کہیں وہ خود محفل کو روشن کرنے والی شمع بن گیا، اور کہیں خود ہی پروانہ بن کر جل گیا۔
یہ شعر وحدت الوجود کے صوفیانہ تصور کی بے حد دلکش اور لطیف تصویر کشی کرتا ہے۔ روایتی استعارے میں محفل کو جگمگانے والی شمع یعنی معشوق، اور اس پر فدا ہو کر جل جانے والا پروانہ یعنی عاشق، دونوں دراصل اسی ایک قادرِ مطلق کے مختلف رنگ ہیں۔ شاعر یہ گہری بات سمجھاتا ہے کہ محبت کے اس راز میں جلنے والا اور جلانے والا دو الگ ہستیاں نہیں، بلکہ ہر سو اسی ایک ہی ذات کی جلوہ گری ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
