“He was Himself the petitioner, and He the granter too; to whom then should I openly reveal this secret truth?”
وہ خود ہی مانگنے والا تھا اور خود ہی قبول کرنے والا؛ اب میں یہ راز کھلم کھلا کس سے بیان کروں؟
یہ شعر وحدت الوجود کے اس لطیف بھید کو بیان کرتا ہے جہاں سائل بن کر مانگنے والا بھی وہی ہے اور دعا قبول فرمانے والا مجیب بھی وہی محبوبِ حقیقی ہے۔ شاعر پر جب یہ معرفت کھلی کہ پکارنے والی تڑپ اور پکار سننے والی رحمت دراصل ایک ہی ذات کے جلوے ہیں، تو وہ حیرت میں گم ہو گیا۔ یہ حقیقت اتنی گہری اور نازک ہے کہ اسے سرِ عام نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ ظاہر بین دنیا اس باطنی سچائی کو سمجھنے سے قاصر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
