“Somewhere hidden in the dust as a dormant seed, somewhere a flourishing bough in blossom and fruit.”
کہیں یہ بیج بن کر مٹی میں چھپا رہتا ہے، تو کہیں درخت کی شاخ بن کر پھولتا اور پھلتا ہے۔
یہ شعر وحدت الوجود اور حیات کے بدلتے رنگوں کی بڑی دلکش تصویر کشی کرتا ہے۔ ایک طرف زندگی خاک میں پوشیدہ وہ خاموش بیج ہے جو صبر سے اپنے وقت کا منتظر ہے، اور دوسری طرف وہی ایک سرسبز شاخ بن کر پھلتی پھولتی نظر آتی ہے۔ شاعر بڑی پیاری بات سمجھاتے ہیں کہ چاہے ہم گمنامی اور تیاری کے کٹھن دور سے گزر رہے ہوں یا عروج اور شادمانی کے موسم میں، یہ دونوں کیفیتیں دراصل ایک ہی حقیقت اور حسن کے روپ ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
