“When years bring no discernment between the humble and the great, what matters if one is a disciple or a master of high estate?”
اگر عمر گزرنے پر بھی چھوٹے اور بڑے یا عیب و ہنر کی تمیز نہ آئی، تو انسان کا شاگرد ہونا یا استاد بننا بے معنی ہے۔
یہ شعر بڑی خوبصورتی سے یاد دلاتا ہے کہ محض عمر گزر جانے یا اونچے القاب پا لینے سے انسان میں سچی دانائی نہیں آتی۔ اگر کسی کے اندر اپنی کوتاہی اور عاجزی کو پہچاننے اور حقیقی بڑپّن کی قدر کرنے کا سلیقہ ہی نہ ہو، تو اس کا 'شاگرد' ہونا یا 'استاد' کہلانا سب بے معنی ہے۔ اصل شائستگی اور عظمت انسان کے اخلاق، فہم اور تمیز میں پوشیدہ ہوتی ہے، نہ کہ صرف عمر اور رتبوں میں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
