غزل

عشق میں آ عجب مزا دیکھا

عشق میں آ عجب مزا دیکھا

یہ غزل عشقِ حقیقی کے اس روحانی اور وجدانی سرور کو بیان کرتی ہے جہاں بیگانگی اور تفریق کے تمام پردے اٹھ جاتے ہیں۔ عرفان و تصوف کے اس سفر میں عاشق پر کائنات کی حقیقت کھلتی ہے اور اسے ہر سمت جلوۂ یار ہی نظر آتا ہے۔

Source: Divan-e-Niyaz (Lucknow, 1960 reprint) · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
عشق میں آ عجب مزا دیکھا خویش و بیگا نہ آشنا دیکھا
محبت کی راہ میں آ کر میں نے ایک عجیب ہی مزا دیکھا کہ رشتہ دار اور اجنبی سب ہی اپنے اور شناسا معلوم ہونے لگے۔
2
نکتہ ”اَیْنَ مَا“ سے واقف ہو چہرۂ یار جا بہ جا دیکھا
”اَینَ مَا“ (جہاں کہیں بھی) کے باریک نکتے سے واقف ہو کر، میں نے ہر جگہ اپنے محبوب کا چہرہ دیکھا۔
3
بلکہ یہ بولنا تکلّف ہے ہم نے اس کو سنا ہے یا دیکھا؟
بلکہ یہ کہنا بھی محض ایک تکلف ہے کہ کیا ہم نے سچ مچ کبھی اس کو سنا یا دیکھا بھی ہے؟
4
دیکھتا آپ ہے، سنے ہے آپ نہ کوئی اس کے ماسوا دیکھا
وہ خود ہی دیکھنے والا ہے اور خود ہی سننے والا ہے، اور میں نے اس کے سوا کسی دوسرے کو کبھی نہیں دیکھا۔
5
دید کی اپنے تھی اُسے خواہش آپ کو ہر طرح بنا دیکھا
اسے خود کو دیکھنے کی خواہش تھی، اس لیے اس نے اپنے آپ کو ہر صورت میں بنا کر دیکھا۔
6
صورتِ گلؔ میں کھلکھلا کے ہنسا شکلِ بلبل میں چہچہا دیکھا
میں نے اُسے پھول کی صورت میں کھلکھلا کر ہنستے ہوئے اور بلبل کے روپ میں چہچہاتے ہوئے دیکھا۔
7
شمع ہو کر کے اور پروانہ آپ کو آپ میں جلا دیکھا
میں خود ہی شمع اور خود ہی پروانہ بن گیا، اور اپنے آپ کو اپنے ہی اندر جلتے ہوئے دیکھا۔
8
کر کے دعویٰ کہیں انا الحق کا بر سرِ دار وہ کھنچا دیکھا
کہیں 'انا الحق' (میں ہی حق ہوں) کا دعویٰ کر کے اُسے دار (سولی) پر لٹکتے ہوئے دیکھا گیا۔
9
تھا وہ برتر ثنا وُ ما سے نیازؔ پھر وہی اَب ثنا وُ ما دیکھا
اے نیازؔ! وہ ذات کبھی ہر تعریف و توصیف سے پرے تھی، مگر اب ہر حمد و ثنا میں وہی دکھائی دے رہا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.