“Possessed by a longing to behold Himself, He fashioned and witnessed Himself in every possible guise.”
اسے خود کو دیکھنے کی خواہش تھی، اس لیے اس نے اپنے آپ کو ہر صورت میں بنا کر دیکھا۔
یہ شعر تصوف کے اس دلکش تصور کی عکاسی کرتا ہے جہاں پوری کائنات کو خالق کے اپنے حسن کا آئینہ قرار دیا گیا ہے۔ ذاتِ حق کو جب اپنے ہی بے مثال جلوؤں کا دیدار کرنے کی تمنا ہوئی تو اس نے رنگ برنگے روپ دھار لیے اور ہر شے میں خود کو ہی عیاں پایا۔ یوں یہ ہستی کسی جبر کے تحت نہیں، بلکہ اپنے ہی جمال کو پہچاننے اور محسوس کرنے کی ایک سچی اور پرخلوص آرزو سے وجود میں آئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
