“Far beyond all praise and laudation was He, O Niyaz; yet now, in every hymn of praise, it is He alone who is seen.”
اے نیازؔ! وہ ذات کبھی ہر تعریف و توصیف سے پرے تھی، مگر اب ہر حمد و ثنا میں وہی دکھائی دے رہا ہے۔
اس صوفیانہ شعر میں شاہ نیازؔ روحانی بصیرت اور وحدت کے ایک عمیق راز سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ ابتدا میں سالک سمجھتا ہے کہ حق تعالیٰ ہر انسانی فہم، تعریف اور لفظ و بیاں سے ماورا اور دور ہے۔ مگر جب باطن کی آنکھ کھلتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ وہ ذات ذرے ذرے میں جلوہ گر ہے، یعنی تعریف کرنے والا، تعریف کا عمل اور جس کی تعریف کی جا رہی ہے، سب وہی ایک ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
