“Having grasped the subtle mystery of the divine essence, everywhere I looked, I beheld the Beloved's face.”
”اَینَ مَا“ (جہاں کہیں بھی) کے باریک نکتے سے واقف ہو کر، میں نے ہر جگہ اپنے محبوب کا چہرہ دیکھا۔
یہ شعر قرآنِ پاک کے اس لطیف اشارے (فَأَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ) کی ترجمانی کرتا ہے کہ تم جدھر بھی رُخ کرو، وہیں اللہ کا جلوہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب دل نے وحدت کے اس گہرے نکتے کو پا لیا، تو پھر دوری کا ہر پردہ آنکھوں کے سامنے سے ہٹ گیا۔ اب اس کائنات کے ذرے ذرے اور ہر گوشے میں فقط محبوبِ حقیقی کا ہی حسن مسکراتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
