غزل
نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سی
نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سی
Source: Kulliyaat-e-Nazeer Akbarabadi (1922) · HI
نغمہ سنیں
1
नहीं हवा में ये बू नाफ़ा-ए-ख़तन की सी
लपट हो ये तो किसी ज़ुल्फ़-ए-पुर-शिकन की सी
نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سی
لپٹ ہو یہ تو کسی زلف پُر شکن کی سی
ہوا میں پھیلی یہ خوشبو ختن کے ہرن کی کستوری جیسی نہیں ہے؛ اگر یہ کوئی لپٹ ہے تو کسی پُر شکن زلف کی لپٹ ہے۔
2
मैं हँसके इसलिए मुँह चूमता हूँ ग़ुंचे का
कि कुछ लताफ़ी है इसमें तिरे दहन की सी
میں ہنسکے اسلیے منھ چومتا ہوں غنچے کا
کہ کچھ لطافی ہے اسمیں ترے دہن کی سی
میں ہنس کر اسی لیے کلی کے منہ کو چومتا ہوں کہ اس میں کچھ تمہارے لبوں جیسی نزاکت اور لطافت ہے۔
3
ख़ुदा के वास्ते गुल को न मेरे हाथ से लो
मुझे बू आती हो इसमें किसी बदन की सी
خدا کیواسطے گل کو نہ میرے ہاتھ سے لو
مجھے بو آتی ہو اسمیں کسی بدن کی سی
خدا کے لیے اس پھول کو میرے ہاتھ سے نہ لو، کیونکہ مجھے اس میں کسی کے بدن کی سی خوشبو آتی ہے۔
4
हज़ार तन के चलें बांके ख़ूब-रू लेकिन
किसी में आन नहीं तेरे बांकपन की सी
ہزار تن کے چلیں بانکے خوب رو لیکن
کسی میں آن نہیں تیرے بانکپن کی سی
ہزاروں بانکے اور خوب رُو لوگ اکڑ کر چلیں، مگر کسی میں تیری بانکی ادا اور شان جیسی بات نہیں۔
5
मुझे तो उस पे निहायत ही रश्क आता हो
कि जिसके हाथ सने पोशाक तेरे तन की सी
مجھے تو اُس پہ نہایت ہی رشک آتا ہو
کہ جسکے ہاتھ سنے پوشاک تیرے تن کی سی
مجھے تو اُس شخص پر نہایت رشک آتا ہے جس کے ہاتھوں نے تیرے بدن کے ناپ کا لباس سیا ہے۔
6
कहा जो तूने कि मनका ढला तो आऊँगा
हो बात कुछ न कुछ इसमें भी मक्र-ओ-फ़न की सी
کہا جو تُنے کہ منکا ڈھلا تو آؤں گا
ہو بات کچھ نہ کچھ اسمین بھی مکر وفن کی سی
تُو نے کہا کہ جب دن ڈھلے گا تب میں آؤں گا، مگر تیری اِس بات میں بھی کچھ نہ کچھ مکر اور چالاکی کی جھلک ہے۔
7
वगरना सच हो तो ऐ जान इतनी मुद्दत में
यही बस एक कही तूने मेरे मन की सी
وگرنہ سچ ہو تو ای جان اتنی مدت مین
یہی بس ایک کہی تُنے میرے من کی سی
ورنہ اگر سچ کہا جائے، اے جان، اتنی مدت میں تُو نے بس یہی ایک بات کہی جو میرے دل کے مطابق تھی۔
8
वो देख शैख़ को ला-हौल पढ़के कहता हो
ये आए देखिए दाढ़ी लगाए सुन की सी
وہ دیکھ شیخ کو لاحول پڑھکے کہتا ہو
یہ آئے دیکھیئے داڑھی لگائے سُن کی سی
وہ دیکھو، شیخ لاحول پڑھ کر کہتا ہے: ذرا دیکھیے، یہ آ رہا ہے جس نے سَن جیسے ریشوں کی داڑھی لگا رکھی ہے۔
9
कहाँ तू और कहाँ उस परी का वस्ल नज़ीर
मियाँ तू छोड़ ये बातें दीवाने-पन की सी
کہان تو اور کہان اُس پری کا وصل نظیرؔ
میان تو چھوڑ یہ باتین دیوانے پن کی سی
کہاں تو اور کہاں اُس پری سے وصل کی اُمید، نظیرؔ! میاں، یہ باتیں چھوڑ دے، یہ تو دیوانے پن کی باتیں ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
