وہ دیکھ شیخ کو لاحول پڑھکے کہتا ہو — نظیر اکبرآبادی

وہ دیکھ شیخ کو لاحول پڑھکے کہتا ہو یہ آئے دیکھیئے داڑھی لگائے سُن کی سی

“Look there, the Sheikh recites his charm to ward off ill, and sneers: "Behold, here comes one sporting a beard of flax-like hairs!"”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

وہ دیکھو، شیخ لاحول پڑھ کر کہتا ہے: ذرا دیکھیے، یہ آ رہا ہے جس نے سَن جیسے ریشوں کی داڑھی لگا رکھی ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اُس ریاکار شیخ پر طنز کرتا ہے جو کسی کو دیکھ کر 'لاحول' پڑھنے لگتا ہے، گویا سامنے کوئی شیطان آ گیا ہو۔ 'سُن کی سی داڑھی' یعنی پٹسن جیسی رُوکھی داڑھی — یہ ظاہری دکھاوے کی دینداری پر چوٹ ہے، جہاں داڑھی تو لمبی ہے مگر دل میں نہ نرمی ہے نہ انسانیت۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ اصل تقویٰ داڑھی میں نہیں بلکہ نیت اور اخلاق میں ہوتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.