خدا کیواسطے گل کو نہ میرے ہاتھ سے لو — نظیر اکبرآبادی

خدا کیواسطے گل کو نہ میرے ہاتھ سے لو مجھے بو آتی ہو اسمیں کسی بدن کی سی

“For God's sake, do not take the rose from out my hand— for in it comes to me the fragrance of some beloved's body.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

خدا کے لیے اس پھول کو میرے ہاتھ سے نہ لو، کیونکہ مجھے اس میں کسی کے بدن کی سی خوشبو آتی ہے۔

تشریح

ذرا تصور کیجیے — عاشق ہاتھ میں پھول تھامے ہوئے ہے اور التجا کرتا ہے کہ کوئی اسے اس کے ہاتھ سے نہ لے، اور وجہ کتنی نازک ہے کہ اس گل کی خوشبو میں اسے کسی محبوب کے بدن کی مہک محسوس ہوتی ہے۔ یہاں گلاب محض پھول نہیں رہا بلکہ یاد اور عشق کا پیکر بن گیا ہے جسے وہ سینے سے لگائے رکھنا چاہتا ہے۔ شعر کا حسن اسی بے بسی میں ہے کہ ایک معمولی سی خوشبو عاشق کے لیے پورے وجود کا احساس بن جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.