مجھے تو اُس پہ نہایت ہی رشک آتا ہو — نظیر اکبرآبادی

مجھے تو اُس پہ نہایت ہی رشک آتا ہو کہ جسکے ہاتھ سنے پوشاک تیرے تن کی سی

“Indeed, I feel the most intense of envy burn in me For that one whose own hands have sewn the garment of your frame.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

مجھے تو اُس شخص پر نہایت رشک آتا ہے جس کے ہاتھوں نے تیرے بدن کے ناپ کا لباس سیا ہے۔

تشریح

اِس شعر میں شاعر اپنی حسد کو نہایت نازک پیرائے میں بیان کرتا ہے — وہ اُس درزی سے بھی جلتا ہے جس کے ہاتھوں نے محبوب کے بدن کا لباس سیا۔ آخر اُن ہاتھوں کو تو محبوب کے جسم کی ناپ اور اُس کی قربت کا شرف حاصل ہوا۔ یہ عشق کی اُس دیوانگی کی تصویر ہے جہاں عاشق ہر اُس شے سے رشک کرتا ہے جو اُس کے محبوب کے قریب پہنچ جائے، چاہے وہ ایک معمولی پوشاک ہی کیوں نہ ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.