ہزار تن کے چلیں بانکے خوب رو لیکن — نظیر اکبرآبادی
“A thousand graceful, handsome ones may walk their jaunty way, yet none possesses the proud elegance your charm displays.”
معنی
ہزاروں بانکے اور خوب رُو لوگ اکڑ کر چلیں، مگر کسی میں تیری بانکی ادا اور شان جیسی بات نہیں۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کی بے مثال شان کا جشن منا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دنیا میں ہزاروں خوبصورت اور چھیل چھبیلے لوگ اپنی ادا سے اتراتے ہوئے چلیں، مگر ان میں سے کسی میں بھی وہ ناز و انداز، وہ بانکپن نہیں جو تجھ میں ہے۔ 'بانکپن' وہ ترچھی، شوخ ادا ہے جو دل کو بے ساختہ کھینچ لیتی ہے — اور شاعر کہہ رہا ہے کہ یہی ادا تیری اپنی ہے، کسی اور میں اس کی جھلک تک نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
