کہا جو تُنے کہ منکا ڈھلا تو آؤں گا — نظیر اکبرآبادی

کہا جو تُنے کہ منکا ڈھلا تو آؤں گا ہو بات کچھ نہ کچھ اسمین بھی مکر وفن کی سی

“You said, 'When the day declines, then I shall come to you'— Yet in these words there lurks some trace of guile and artful ruse.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

تُو نے کہا کہ جب دن ڈھلے گا تب میں آؤں گا، مگر تیری اِس بات میں بھی کچھ نہ کچھ مکر اور چالاکی کی جھلک ہے۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنے محبوب کے وعدے کو یاد کرتا ہے — تم نے کہا تھا کہ جب دن ڈھلے گا، شام ہوگی، تب میں آؤں گا۔ مگر دل میں ایک شک کی کسک ہے کہ اس میٹھے وعدے میں بھی کہیں نہ کہیں کوئی مکر، کوئی چالاکی چھپی ہے۔ 'منکا ڈھلنا' یعنی سورج کا غروب ہونا — وہ گھڑی جو آتی ہی نہیں محسوس ہوتی، کیونکہ عاشق جانتا ہے کہ یہ محض ٹالنے کا بہانہ ہے۔ یہاں انتظار کی معصومیت اور وعدے کے کھوکھلے پن کا درد ایک ساتھ جھلکتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.