میں ہنسکے اسلیے منھ چومتا ہوں غنچے کا — نظیر اکبرآبادی

میں ہنسکے اسلیے منھ چومتا ہوں غنچے کا کہ کچھ لطافی ہے اسمیں ترے دہن کی سی

“Smiling, I kiss the rosebud's mouth for this alone— that something of your lips' sweet grace in it is shown.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

میں ہنس کر اسی لیے کلی کے منہ کو چومتا ہوں کہ اس میں کچھ تمہارے لبوں جیسی نزاکت اور لطافت ہے۔

تشریح

شاعر یہاں مسکرا کر کلی کے ننھے منھ کو چومتا ہے، اور اس کی وجہ بتاتا ہے — اُس کلی میں اُسے اپنے محبوب کے لبوں جیسی نزاکت اور لطافت محسوس ہوتی ہے۔ کلی اور محبوب کے دہن کا یہ نازک رشتہ دکھاتا ہے کہ عاشق کو فطرت کی ہر حسین شے میں اپنے پیارے کا عکس نظر آتا ہے۔ یہ اُس دیوانگی کی میٹھی جھلک ہے جہاں دنیا بھر کا حسن محبوب کی یاد بن جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.