نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سی — نظیر اکبرآبادی

نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سی لپٹ ہو یہ تو کسی زلف پُر شکن کی سی

“This fragrance in the air is not the musk of Khotan's deer— if it be flame, it is the flame of some tress coiled and dear.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

ہوا میں پھیلی یہ خوشبو ختن کے ہرن کی کستوری جیسی نہیں ہے؛ اگر یہ کوئی لپٹ ہے تو کسی پُر شکن زلف کی لپٹ ہے۔

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ ہوا میں جو خوشبو پھیلی ہے وہ ختن کے ہرن کے نافے کی کستوری جیسی معمولی نہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ مسحور کن ہے۔ اگر یہ کوئی لپٹ ہے تو کسی محبوب کی پیچ در پیچ، بل کھاتی زلف کی لپٹ ہے۔ زلف کو بیک وقت خوشبو اور آگ بنا دینا کمال ہے — وہ مہکاتی بھی ہے اور جلاتی بھی، یعنی عشق کا وہی میٹھا درد جو دل کو سکون اور بے قراری دونوں بخشتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.