غزل

لگی خدنگ جب اس غمزہ کا سا

لگی خدنگ جب اس غمزہ کا سا
مومن خاں مومن· Ghazal· 10 shers

Source: Kulliyat-e-Momin (old lithograph edition) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
लगी ख़दंग जब इस ग़मज़ा का सा फ़लक का हाल नहो क्या मेरी जिगर का सा
لگی خدنگ جب اس غمزہ کا سا فلک کا حال نہو کیا میری جگر کا سا
جب اس معشوق کے ناز و ادا کا تیر لگا، تو آسمان کا حال بھی میرے زخمی دل جیسا ہو گیا۔
2
सख़ावतकाही बहुत में में बख़ावन का अगर नहोईगा नक़्शा तुम्हारी कहर का सा
سخاوتکاہی بہت مین مین بخاون کا اگر نہوئیگا نقشہ تمہاری کہر کا سا
میں بہت سخاوت اور تعریف کے تحفے لاتا، اگر تمہارے قہر کا خوفناک نقشہ نہ ہوتا۔
3
करे न ख़ाना-ख़राबी तेरी नदामत-ए-जौर कि आब-ए-शर्म में है जोश चश्म-ए-तर का सा
کری نہ خانہ خرابی تیری ندامت جور کہ آب شرم مین ہی جوش چشم تر کا سا
کہیں ظلم پر تیری شرمندگی تیرا گھر برباد نہ کر دے، کیونکہ شرم کے پانی میں بھی نم آنکھوں جیسا جوش اور ابال ہوتا ہے۔
4
ये जोश-ए-आशिक़ देखो कि अपनी क़त्ल की वक़्त दुआयी सिल लगी वक़्त तन्हा असर का सा
یہ جوش عاشق دیکھو کہ اپنی قتل کی وقت دعائی صل لگی وقت تنہا اثر کا سا
عاشق کے جوش کو دیکھو کہ اپنے قتل کے وقت بھی اس کے لب دعا میں سلے رہے، جیسے تنہائی کے کسی اثر میں ڈوبا ہوا ہو۔
5
लगी उन आँखों से हर वक़्त ऐ दिल-ए-सद-चाक तेरा न रुत्बा हुआ क्यूँ शिकाफ़-ए-दर का सा
لگی ون آنکہونسی ہر وقت ای دل صد چاک تیرا نہ رتبہ ہوا کیون شکاف در کا سا
اے سو ٹکڑوں میں بٹے دل، تیری نظر ہر وقت اُن آنکھوں پر جمی رہی؛ پھر بھی تیرا رتبہ دروازے کی دراڑ جتنا کیوں نہ ہو سکا؟
6
ज़रा हो गर्मी-ए-सोहबत तो ख़ाक कर दी चर्ख़ मेरा सुरूर है गुलख़न्दा-ए-शरर का सा
ذرا ہو گرمی صحبت تو خاک کردی چرخ میرا سرور ہی کلخندہ شرر کا سا
اگر میری صحبت کی گرمی ذرا بھی بھڑک اٹھے تو میں آسمان کو خاک کر دوں؛ میرا سرور اڑتی ہوئی چنگاری کی ہنستی ہوئی کھلاوٹ جیسا ہے۔
7
बेह नातवाँ हूँ कि हूँ दर नज़र नहीं आता मेरा भी हाल हुआ तेरी ही कमर का सा
بیہ ناتوان ہون کہ ہون در نظر نہیں آتا میرا بہی حال ہوا تیری ہی کمر کا سا
میں اتنا ناتواں ہو گیا ہوں کہ نظر میں بھی نہیں آتا؛ میری حالت بھی تیری اسی باریک کمر جیسی ہو گئی ہے جو بمشکل دکھائی دیتی ہے۔
8
जुनून की जोश से बेगाना-वार हैं अहबाब हमारा हाल वतन में हुआ सफ़र का सा
جنون کی جوش سی بیگانہ وار ہین احباب ہمارا حال وطن مین ہوا سفر کا سا
میرے احباب جنون کے جوش سے بیگانہ اور لاتعلق ہو گئے ہیں؛ اپنے ہی وطن میں میرا حال ایسا ہو گیا ہے جیسے میں کسی سفر میں ہوں۔
9
ख़बर नहीं कि उसे क्या हुआ पर उस दर पर निशान या नज़र आता है नामा-बर का सा
خبر نہیں کہ اوسی کیا ہوا پر اوس در پر نشان یا نظر آتا ہے نامہ بر کا سا
خبر نہیں کہ اُسے کیا ہوا، مگر اُس دروازے پر کوئی نشان یا علامت دکھائی دیتی ہے، جیسے کسی قاصد کی ہو۔
10
दिल ऐसी शोख़ को मोमिन ने दी या कि वो ही मुहिब-ए-हुसैन का और दिल रहे शिमर का सा
دل ایسی شوخ کو مومن نے دی یا کہ وہ ہی محب حسین کا اور دل رہی شمر کا سا
مومن نے اپنا دل ایسی شوخ محبوبہ کو دیا، یا وہ خود ایسی نکلی کہ حسین کے محب کا دل شمر کے دل جیسا (سنگدل) ہو گیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.