غزل
सितम से गो ये तिरे कुश्ता-ए-वफ़ा न रहा
सितम से गो ये तिरे कुश्ता-ए-वफ़ा न रहा
شاعر وں یہ شکایت کر رہا ہے کہ وہ وفاداری کے اس بوجھ کو مزید نہیں سہہ سکتا۔ محبوب کا نام لیتے ہی شاعر کو نشہ آ جاتا تھا، مگر یہ دل جو ستم سے بھرا ہے، وہ کبھی اس میں ٹھہر نہ سکا۔ آنکھوں کا ملنا ہر دم ایک فریب تھا، اور وہ محبوب اب بے دید اور اجنبی ہو چکا ہے۔
نغمہ سنیں
1
सितम से गो ये तिरे कुश्ता-ए-वफ़ा न रहा
रहे जहान में तो दैर में रहा न रहा
ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہا
رہے جہان میں تو دیر میں رہا نہ رہا
ستم سے میرے، یہ تیرے وفا کا قشتا نہیں رہا، نہ جہاں میں ہے، نہ دیر میں ہے۔
2
कब उस का नाम लिए ग़श न आ गया मुझ को
दिल-ए-सितम-ज़दा किस वक़्त उस में जा न रहा
کب اس کا نام لیے غش نہ آ گیا مجھ کو
دل ستم زدہ کس وقت اس میں جا نہ رہا
کب اُس کا نام لیا تو مجھ کو بے ہوش کر دیا؟ اے دلِ ستم زدہ، کس وقت اس میں جا رہا؟
3
मिलाना आँख का हर-दम फ़रेब था देखा
फिर एक दम में वो बे-दीद आश्ना न रहा
ملانا آنکھ کا ہر دم فریب تھا دیکھا
پھر ایک دم میں وہ بے دید آشنا نہ رہا
ملانا آنکھ کا ہر دم فریب تھا دیکھا، پھر ایک دم میں وہ بے دید آشنا نہ رہا۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ آنکھوں کا ملنا ہر لمحہ ایک دھوکہ تھا، اور اچانک وہ محبوب ساتھی موجود نہیں رہا۔
4
मूए तो हम पे दिल पर को ख़ूब ख़ाली कर
हज़ार शुक्र कसो से हमें गिला न रहा
موئے تو ہم پہ دل پر کو خوب خالی کر
ہزار شکر کسو سے ہمیں گلہ نہ رہا
اگرچہ تم نے اپنے پیار سے ہمارے دل کو بہت خالی کر دیا، پھر بھی مجھ سے ہزار شکایتیں نہ کرنا۔
5
उधर खुली मिरी छाती इधर नमक छिड़का
जराहत उस को दिखाने का अब मज़ा न रहा
ادھر کھلی مری چھاتی ادھر نمک چھڑکا
جراحت اس کو دکھانے کا اب مزہ نہ رہا
میری چھاتی وہیں کھلی ہے اور یہاں نمک چھڑک دیا گیا ہے۔ اب زخم دکھانے میں مزہ نہیں رہا۔
6
हुआ हूँ तंग बहुत कोई दिन में सिन लीजो
कि जी से हाथ उठा कर वो उठ गया न रहा
ہوا ہوں تنگ بہت کوئی دن میں سن لیجو
کہ جی سے ہاتھ اٹھا کر وہ اٹھ گیا نہ رہا
میں بہت پریشان ہوں، کوئی دن میں میری مدد کرے، کیونکہ جس نے میرے ہاتھ اٹھائے، میں خود نہیں اٹھ سکا۔
7
सितम का उस के बहुत मैं नज़ार हूँ मम्नून
जिगर तमाम हुआ ख़ून-ओ-दिल बजा न रहा
ستم کا اس کے بہت میں نزار ہوں ممنون
جگر تمام ہوا خون و دل بجا نہ رہا
میں اس کے ظلم کا بہت نَظارہ ہوں، محبوب۔ میرا سارا جگر خون و دل ہو کر بج رہا ہے۔
8
अगरचे रह गए थे उस्तुख़्वान-ओ-पोस्त वले
लगाई ऐसी कि तस्मा भी फिर लगा न रहा
اگرچہ رہ گئے تھے استخوان و پوست ولے
لگائی ایسی کہ تسمہ بھی پھر لگا نہ رہا
اگرچہ سیاہ قلم اور چمڑے کے ماہر موجود تھے، لیکن بندھن اتنا مضبوط تھا کہ ریشم بھی اسے نہیں روک سکا۔
9
हमीयत उस के तईं कहते हैं जो 'मीर' में थी
गया जहाँ से पे तेरी गली मैं आ न रहा
حمیت اس کے تئیں کہتے ہیں جو میرؔ میں تھی
گیا جہاں سے پہ تیری گلی میں آ نہ رہا
ہمیت اُس کے تئیں کہتے ہیں جو 'میر' میں تھی، گیا جہاں سے پہ تیری گلی میں آ رہا۔ اس کا مطلب ہے کہ محبت کا احساس یا اہمیت उस 'میر' (شاعری کے انداز) میں تھی، جہاں سے میں تیری گلی میں آ رہا تھا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
