غزل

सहर-ए-गह-ए-ईद में दौर-ए-सुबू था

सहर-ए-गह-ए-ईद में दौर-ए-सुबू था
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل عید کی صبح کے ماحول کو بیان کرتی ہے، جہاں یادوں اور ہجر کا ایک احساس ہے۔ شاعر اس لمحے کی بات کرتا ہے جب وہ بے خبر گزر گیا، اور یہ بھی کہ ہر منظر، باغ سے لے کر آینے تک، محبوب کی ہی جھلک دکھاتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
सहर-ए-गह-ए-ईद में दौर-ए-सुबू था पर अपने जाम में तुझ बिन लहू था
سحر گہہ‌ عید میں دور سبو تھا پر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا
سحرِ گہِ عید میں دورِ سُو بُو تھا، مگر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا۔
2
ग़लत था आप से ग़ाफ़िल गुज़रना न समझे हम कि इस क़ालिब में तू था
غلط تھا آپ سے غافل گزرنا نہ سمجھے ہم کہ اس قالب میں تو تھا
آپ سے بے پرواہ ہو کر گزرنا غلط تھا، میں نے نہیں سمجھا کہ آپ اس قالب میں موجود ہیں۔
3
चमन की वज़' ने हम को क्या दाग़ कि हर ग़ुंचा दिल-ए-पुर-आरज़ू था
چمن کی وضع نے ہم کو کیا داغ کہ ہر غنچہ دل پر آرزو تھا
چمن کی خوشبو نے ہم پر کیا داغ لگایا، کہ ہر گنچہ ہی خواہشوں سے دل تھا۔
4
गुल-ओ-आईना क्या ख़ुरशीद-ओ-मह क्या जिधर देखा तिधर तेरा ही रू था
گل و آئینہ کیا خورشید و مہ کیا جدھر دیکھا تدھر تیرا ہی رو تھا
گل و آئینہ کیا، خورشید و ماہ کیا؟ جہاں بھی دیکھا، بس تیرا ہی رو تھا۔
5
करोगे याद बातें तो कहोगे कि कोई रफ़्ता-ए-बिसयार-गो था
کرو گے یاد باتیں تو کہو گے کہ کوئی رفتۂ بسیار گو تھا
اگر تم یادوں کی باتیں کرو گے تو کہو گے کہ کوئی بَسیار-گُو (بھولنے کا) گہرا دھارا تھا۔
6
जहाँ पर है फ़साने से हमारे दिमाग़-ए-इश्क़ हम को भी कभू था
جہاں پر ہے فسانے سے ہمارے دماغ عشق ہم کو بھی کبھو تھا
جہاں سے ہماری کہانیاں بُنی گئی ہیں، وہاں ہمارے عشق کے دل کو بھی کبھی تھا۔
7
मगर दीवाना था गुल भी किसू का कि पैराहन में सो जागा रफ़ू था
مگر دیوانہ تھا گل بھی کسو کا کہ پیراہن میں سو جاگا رفو تھا
اس کا مطلب ہے کہ گل بھی کسی کا دیوانہ تھا، اس لیے اس کی خوشبو کپڑے میں سو گئی۔
8
कहीं क्या बाल तेरे खुल गए थे कि झोंका बाव का कुछ मुश्कबू था
کہیں کیا بال تیرے کھل گئے تھے کہ جھونکا باؤ کا کچھ مشکبو تھا
کہیں کیا بال تیرے کھل گئے تھے کہ جھونکا باو کا کچھ مشکبو تھا۔ (مطلب: تیرے بال اتنے کھلے گئے کہ ایک معمولی ہوا کا جھونکا بھی انہیں چھونے کے لیے کافی تھا۔)
9
न देखा 'मीर' आवारा को लेकिन ग़ुबार इक ना-तवाँ सा कू-ब-कू था
نہ دیکھا میرؔ آوارہ کو لیکن غبار اک ناتواں سا کو بہ کو تھا
میر نے آوارہ کو نہیں دیکھا، مگر جگہ جگہ دھول ایک کمزور نَظم کی طرح بکھری ہوئی تھی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.