مگر دیوانہ تھا گل بھی کسو کا — میر تقی میر

مگر دیوانہ تھا گل بھی کسو کا کہ پیراہن میں سو جاگا رفو تھا

“But the rose was also crazy for some, / That the fragrance was asleep in the cloth.”

— میر تقی میر

معنی

اس کا مطلب ہے کہ گل بھی کسی کا دیوانہ تھا، اس لیے اس کی خوشبو کپڑے میں سو گئی۔

تشریح

یہ شعر ایک شدید اور غیر معمولی محبت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ پھول بھی کسو کے دیوانے تھے، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ رَفُو نے پردے میں نیند سراغ دی۔ یہ عشق کی وہ کیفیت ہے جو ہر چیز کو متاثر کر دے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.