غزل

पाए ख़िताब क्या क्या देखे इ'ताब क्या क्या

पाए ख़िताब क्या क्या देखे इ'ताब क्या क्या
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل زندگی کے تجربات اور اذیتوں کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتی ہے، جس میں شاعر نے سوال کیا ہے کہ کیا حاصل کیا اور کیا دیکھا۔ اس میں دل کو اذیت دینے والے اور زندگی کی مشکلات سے گزرنے کے بعد کیا تبدیلیاں آئیں۔ مجموعی طور پر، یہ نظم زندگی کی غیر یقینی صورتحال اور اعمال کے حساب کتاب کے موضوع کو چھوتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
पाए ख़िताब क्या क्या देखे इ'ताब क्या क्या दिल को लगा के हम ने खींचे अज़ाब क्या क्या
پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا دل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا
کیا خطاب کیا کیا دیکھے عذاب کیا کیا دل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا
2
काटे हैं ख़ाक उड़ा कर जों गर्द-बाद बरसों गलियों में हम हुए हैं उस बिन ख़राब क्या क्या
کاٹے ہیں خاک اڑا کر جوں گرد باد برسوں گلیوں میں ہم ہوئے ہیں اس بن خراب کیا کیا
کاٹے ہیں خاک اڑا کر جیسے جھاڑو سے، اور گلیوں میں ہم نے اس کے بغیر کیا کیا خراب کر دیا۔
3
कुछ गुल से हैं शगुफ़्ता कुछ सर्व से हैं क़द-कश उस के ख़याल में हम देखे हैं ख़्वाब क्या क्या
کچھ گل سے ہیں شگفتہ کچھ سرو سے ہیں قد کش اس کے خیال میں ہم دیکھے ہیں خواب کیا کیا
کچھ گل سے ہیں شگفتا کچھ سر و سے ہیں قد کش۔ اس کے خیال میں ہم دیکھے ہیں خواب کیا کیا۔
4
अन्वा-ए-जुर्म मेरे फिर बे-शुमार-ओ-बे-हद रोज़-ए-हिसाब लेंगे मुझ से हिसाब क्या क्या
انواع جرم میرے پھر بے شمار و بے حد روز حساب لیں گے مجھ سے حساب کیا کیا
میرے گناہوں کی دھندلی ندیاں، جو بے شمار اور بے حد ہیں، روزِ حساب کو مجھ سے کیا حساب مانگتے ہو؟
5
इक आग लग रही है सीनों में कुछ न पूछो जल जल के हम हुए हैं उस बिन कबाब क्या क्या
اک آگ لگ رہی ہے سینوں میں کچھ نہ پوچھو جل جل کے ہم ہوئے ہیں اس بن کباب کیا کیا
سینوں میں ایک آگ لگ رہی ہے، اس بارے میں کچھ نہ پوچھو۔ جل جل کے ہم ہوئے ہیں، اُس بن کباب کیا کیا۔
6
इफ़रात-ए-शौक़ में तो रूयत रही न मुतलक़ कहते हैं मेरे मुँह पर अब शैख़-ओ-शाब क्या क्या
افراط شوق میں تو رویت رہی نہ مطلق کہتے ہیں میرے منہ پر اب شیخ و شاب کیا کیا
इفراط-ए-شوق میں تو رُئیت رہی نہ مطلق، کہتے ہیں میرے منہ پر اب شیخ و شب کیا کیا
7
फिर फिर गया है आ कर मुँह तक जिगर हमारे गुज़रे हैं जान-ओ-दिल पर याँ इज़्तिराब क्या क्या
پھر پھر گیا ہے آ کر منہ تک جگر ہمارے گزرے ہیں جان و دل پر یاں اضطراب کیا کیا
آپ بار بار آئے ہیں اور ہمارے منہ تک جگر کو چھو گئے ہیں۔ ہمارے جان و دل پر یہ کیسی بے چینی یا اضطراب ہے؟
8
आशुफ़्ता उस के गेसू जब से हुए हैं मुँह पर तब से हमारे दिल को है पेच-ओ-ताब क्या क्या
آشفتہ اس کے گیسو جب سے ہوئے ہیں منہ پر تب سے ہمارے دل کو ہے پیچ و تاب کیا کیا
جب سے آپ کے بال آپ کے چہرے پر بکھرے ہیں، تب سے ہمارے دل میں کیا کیا پیچ و تاب آ گئے ہیں۔
9
कुछ सूझता नहीं है मस्ती में 'मीर'-जी को करते हैं पोच-गोई पी कर शराब क्या क्या
کچھ سوجھتا نہیں ہے مستی میں میرؔ جی کو کرتے ہیں پوچ گوئی پی کر شراب کیا کیا
مستی میں 'میر' جی کو سمجھ نہیں آتا کہ شراب پی کر کیا کیا شرارت کی جاتی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.