پھر پھر گیا ہے آ کر منہ تک جگر ہمارے — میر تقی میر
پھر پھر گیا ہے آ کر منہ تک جگر ہمارے
گزرے ہیں جان و دل پر یاں اضطراب کیا کیا
“Again and again, you have come, reaching to our very heart, Upon our soul and heart, what kind of restlessness is this?”
— میر تقی میر
معنی
آپ بار بار آئے ہیں اور ہمارے منہ تک جگر کو چھو گئے ہیں۔ ہمارے جان و دل پر یہ کیسی بے چینی یا اضطراب ہے؟
تشریح
یہ شعر دل کی کیفیت کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ میرا دل (جگر) اتنا بے قرار ہے کہ میرے ہونٹوں تک آ گیا ہے۔ یہ جو بے چینی ہے، یہ جان و دل کو روند रही ہے... یہ کیسا اذیت کا احساس ہے، شاعر پوچھ رہے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
