کاٹے ہیں خاک اڑا کر جوں گرد باد برسوں — میر تقی میر

کاٹے ہیں خاک اڑا کر جوں گرد باد برسوں گلیوں میں ہم ہوئے ہیں اس بن خراب کیا کیا

“Having scattered the dust by cutting (our ties) like a broom, how many things have we ruined in the streets, without that (person's presence)?”

— میر تقی میر

معنی

کاٹے ہیں خاک اڑا کر جیسے جھاڑو سے، اور گلیوں میں ہم نے اس کے بغیر کیا کیا خراب کر دیا۔

تشریح

یہ شعر زندگی کے دکھ سکھ اور محبت کے فقدان کے درد کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ ہم نے برسوں ہر طوفان کا مقابلہ کیا، لیکن اس محبوب کے بغیر زندگی میں کوئی بھی دکھ یا تکلیف بڑی بات نہیں ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.