غزل

नहीं वसवास जी गँवाने के

नहीं वसवास जी गँवाने के
میر تقی میر· Ghazal· 12 shers

غزل کا مرکزی خیال ہے کہ نہ دل کی سکون کو گنوانا ہے اور نہ ہی کسی کے شوق سے لگ جانے کو۔ شاعر کہتا ہے کہ میری حالت میں آنے والی تبدیلی صرف زمانے کے اتفاقات ہیں، اور آخری دم کا آنا تو ویسے بھی یقینی تھا۔ آخر میں، شاعر اس قدرت کو سمجھاتا ہے کہ یہ تو بس مٹی میں مل جانے کا ایک بہانہ ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
नहीं वसवास जी गँवाने के हाए रे ज़ौक़ दिल लगाने के
نہیں وسواس جی گنوانے کے ہائے رے ذوق دل لگانے کے
شاعر کہہ رہا ہے کہ وسواس کو نہ چھوڑو اور دل کو نشے میں نہ لگاؤ۔
2
मेरे तग़ईर-ए-हाल पर मत जा इत्तिफ़ाक़ात हैं ज़माने के
میرے تغییر حال پر مت جا اتفاقات ہیں زمانے کے
میرے حال میں جو بھی تبدیلی آئی ہے، وہ تم سے نہیں جڑی۔ یہ تو بس زمانے کے اتفاقات ہیں۔
3
दम-ए-आख़िर ही क्या न आना था और भी वक़्त थे बहाने के
دم آخر ہی کیا نہ آنا تھا اور بھی وقت تھے بہانے کے
آخر سانس کا آنا ہی کیا تھا، جب بہانے بنانے کے اور بھی وقت تھے۔
4
इस कुदूरत को हम समझते हैं ढब हैं ये ख़ाक में मिलाने के
اس کدورت کو ہم سمجھتے ہیں ڈھب ہیں یہ خاک میں ملانے کے
ہم اس عجیب عادت کو سمجھتے ہیں، جو اسے مٹی میں ملانے کی ہے۔
5
बस हैं दो बर्ग-ए-गुल क़फ़स में सबा नहीं भूके हम आब-ओ-दाने के
بس ہیں دو برگ گل قفس میں صبا نہیں بھوکے ہم آب و دانے کے
بس ہیں دو برگِ گل قفس میں صبا، نہیں بھوکے ہم آب و دانے کے
6
मरने पर बैठे हैं सुनो साहब बंदे हैं अपने जी चलाने के
مرنے پر بیٹھے ہیں سنو صاحب بندے ہیں اپنے جی چلانے کے
نہ سمجھنا کہ ہم مرنے کے لیے بیٹھے ہیں، صاحب؛ ہم تو اپنے جی چلانے والے لوگ ہیں۔
7
अब गरेबाँ कहाँ कि ऐ नासेह चढ़ गया हाथ उस दिवाने के
اب گریباں کہاں کہ اے ناصح چڑھ گیا ہاتھ اس دوانے کے
اے ناصے، اب میں کہاں جاؤں، جب اس دیوانے کے ہاتھ میں میرا ہاتھ آ گیا ہے۔
8
चश्म-ए-नजम सिपहर झपके है सदक़े उस अँखड़ियाँ लड़ाने के
چشم نجم سپہر جھپکے ہے صدقے اس انکھڑیاں لڑانے کے
چشمِ نجم، ستارے کی چمک کی طرح، جھپکا ہے، ان زبردست اور سخت راتوں سے لڑنے کے لیے۔
9
दिल-ओ-दीं होश-ओ-सब्र सब ही गए आगे आगे तुम्हारे आने के
دل و دیں ہوش و صبر سب ہی گئے آگے آگے تمہارے آنے کے
میرے دل، میرے دین، ہوش اور صبر سب کچھ چلے گئے، بس تمہارے آنے کا انتظار کرتے-करते۔
10
कब तू सोता था घर मरे आ कर जागे ताला ग़रीब-ख़ाने के
کب تو سوتا تھا گھر مرے آ کر جاگے تالا غریب خانے کے
جب تو سو رہا تھا گھر میں، میں آ کر مر گیا؛ جاگے تو میں غریب خانے کے تالے پر تھا۔
11
मिज़ा-ए-अबरू-निगह से इस की 'मीर' कुश्ता हैं अपने दिल लगाने के
مژہ ابرو نگہ سے اس کی میرؔ کشتہ ہیں اپنے دل لگانے کے
ابرُو-نگہ کے مزاج سے، اے میر، یہ دل لگانے کی کوشتاएँ ہیں۔
12
तीर-ओ-तलवार-ओ-सैल यकजा हैं सारे अस्बाब मार जाने के
تیر و تلوار و سیل یکجا ہیں سارے اسباب مار جانے کے
تیر، تلوار اور خون کا سیل ہی موت کے تمام اسباب ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

नहीं वसवास जी गँवाने के | Sukhan AI