غزل
नहीं वसवास जी गँवाने के
नहीं वसवास जी गँवाने के
غزل کا مرکزی خیال ہے کہ نہ دل کی سکون کو گنوانا ہے اور نہ ہی کسی کے شوق سے لگ جانے کو۔ شاعر کہتا ہے کہ میری حالت میں آنے والی تبدیلی صرف زمانے کے اتفاقات ہیں، اور آخری دم کا آنا تو ویسے بھی یقینی تھا۔ آخر میں، شاعر اس قدرت کو سمجھاتا ہے کہ یہ تو بس مٹی میں مل جانے کا ایک بہانہ ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
नहीं वसवास जी गँवाने के
हाए रे ज़ौक़ दिल लगाने के
شاعر کہہ رہا ہے کہ وسواس کو نہ چھوڑو اور دل کو نشے میں نہ لگاؤ۔
2
मेरे तग़ईर-ए-हाल पर मत जा
इत्तिफ़ाक़ात हैं ज़माने के
میرے حال میں جو بھی تبدیلی آئی ہے، وہ تم سے نہیں جڑی۔ یہ تو بس زمانے کے اتفاقات ہیں۔
3
दम-ए-आख़िर ही क्या न आना था
और भी वक़्त थे बहाने के
آخر سانس کا آنا ہی کیا تھا، جب بہانے بنانے کے اور بھی وقت تھے۔
4
इस कुदूरत को हम समझते हैं
ढब हैं ये ख़ाक में मिलाने के
ہم اس عجیب عادت کو سمجھتے ہیں، جو اسے مٹی میں ملانے کی ہے۔
5
बस हैं दो बर्ग-ए-गुल क़फ़स में सबा
नहीं भूके हम आब-ओ-दाने के
بس ہیں دو برگِ گل قفس میں صبا، نہیں بھوکے ہم آب و دانے کے
6
मरने पर बैठे हैं सुनो साहब
बंदे हैं अपने जी चलाने के
نہ سمجھنا کہ ہم مرنے کے لیے بیٹھے ہیں، صاحب؛ ہم تو اپنے جی چلانے والے لوگ ہیں۔
7
अब गरेबाँ कहाँ कि ऐ नासेह
चढ़ गया हाथ उस दिवाने के
اے ناصے، اب میں کہاں جاؤں، جب اس دیوانے کے ہاتھ میں میرا ہاتھ آ گیا ہے۔
8
चश्म-ए-नजम सिपहर झपके है
सदक़े उस अँखड़ियाँ लड़ाने के
چشمِ نجم، ستارے کی چمک کی طرح، جھپکا ہے، ان زبردست اور سخت راتوں سے لڑنے کے لیے۔
9
दिल-ओ-दीं होश-ओ-सब्र सब ही गए
आगे आगे तुम्हारे आने के
میرے دل، میرے دین، ہوش اور صبر سب کچھ چلے گئے، بس تمہارے آنے کا انتظار کرتے-करते۔
10
कब तू सोता था घर मरे आ कर
जागे ताला ग़रीब-ख़ाने के
جب تو سو رہا تھا گھر میں، میں آ کر مر گیا؛ جاگے تو میں غریب خانے کے تالے پر تھا۔
11
मिज़ा-ए-अबरू-निगह से इस की 'मीर'
कुश्ता हैं अपने दिल लगाने के
ابرُو-نگہ کے مزاج سے، اے میر، یہ دل لگانے کی کوشتاएँ ہیں۔
12
तीर-ओ-तलवार-ओ-सैल यकजा हैं
सारे अस्बाब मार जाने के
تیر، تلوار اور خون کا سیل ہی موت کے تمام اسباب ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
