غزل
मोहब्बत का जब रोज़-बाज़ार होगा
मोहब्बत का जब रोज़-बाज़ार होगा
یہ غزل بتاتی ہے کہ جب محبت کا روز بازار ہوگا، تو لوگ سر بھی بیچیں گے اور خریدار بھی کم ہوں گے۔ صبر سے تسلی تو ملے گی، مگر یہ وقت قیاومت کی طرح ہو سکتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میرے دانت ہیں تیرے ہونٹوں پہ، لہٰذا مجھ سے نہ پوچھو، کیونکہ میں لڑنے کے لیے تیار ہوں۔
نغمہ سنیں
1
मोहब्बत का जब रोज़-बाज़ार होगा
बिकेंगे सर और कम ख़रीदार होगा
محبت کا جب روز بازار ہوگا
بکیں گے سر اور کم خریدار ہوگا
اگر محبت کا روز بازار ہوگا، تو سر بکیں گے اور کم خریدار ہوں گے۔
2
तसल्ली हुआ सब्र से कुछ मैं तुझ बिन
कभी ये क़यामत तरहदार होगा
تسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بن
کبھی یہ قیامت طرحدار ہوگا
صبر سے مجھے کچھ تسلی ملی ہے، مگر تیرے بغیر یہ زندگی ایک قیامت جیسی ہو گی۔
3
सबा मू-ए-ज़ुल्फ़ उस का टूटे तो डर है
कि इक वक़्त में ये सियह-मार होगा
صبا موئے زلف اس کا ٹوٹے تو ڈر ہے
کہ اک وقت میں یہ سیہ مار ہوگا
اگر اس کے کالے زُلف گر جائیں تو ڈر ہے کہ ایک لمحے میں یہ سیاہ-مار ہو گا۔
4
मिरा दाँत है तेरे होंटों पे मत पूछ
कहूँगा तो लड़ने को तय्यार होगा
مرا دانت ہے تیرے ہونٹوں پہ مت پوچھ
کہوں گا تو لڑنے کو تیار ہوگا
میرے دانت ہیں تیرے ہونٹوں پہ مت پوچھ، کہوں گا تو لڑنے کو تیار ہو جاؤ گے۔
5
न ख़ाली रहेगी मिरी जागह गर मैं
न हूँगा तो अंदोह बिसयार होगा
نہ خالی رہے گی مری جاگہ گر میں
نہ ہوں گا تو اندوہ بسیار ہوگا
اگر میری جگہ خالی نہیں رہے گی، تو میں کچھ نہیں رہوں گا؛ اگر میں نہ ہوں گا، تو بہت زیادہ غم ہوگا۔
6
ये मंसूर का ख़ून-ए-नाहक़ कि हक़ था
क़यामत को किस किस से ख़ूँदार होगा
یہ منصور کا خون ناحق کہ حق تھا
قیامت کو کس کس سے خوں دار ہوگا
یہ منصور کا خون-اے-ناحق کہ حق تھا، یعنی منصور کا یہ ناجائز خون ایک حق تھا؛ قیامت کو کس کس سے خوندار ہو گا، یعنی قیامت کو کس سے خون ملے گا۔
7
अजब शैख़-जी की है शक्ल-ओ-शमाइल
मिलेगा तो सूरत से बेज़ार होगा
عجب شیخ جی کی ہے شکل و شمائل
ملے گا تو صورت سے بیزار ہوگا
عجب شیخ جی کی ہے شکل و شمائل؛ ملے گا تو صورت سے بیزار ہوگا
8
न रो इश्क़ में दश्त-गर्दी को मजनूँ
अभी क्या हुआ है बहुत ख़्वार होगा
نہ رو عشق میں دشت گردی کو مجنوں
ابھی کیا ہوا ہے بہت خوار ہوگا
اے مجنوں، جو عشق کے سفر کی دھول سے اٹا ہے، نہ رو؛ جو ہوا وہ بہت عارضی ہے اور بہت وقار ملے گا۔
9
खिंचे अहद-ए-ख़त में भी दिल तेरी जानिब
कभू तो क़यामत तरहदार होगा
کھنچے عہد خط میں بھی دل تیری جانب
کبھو تو قیامت طرحدار ہوگا
اگر دل خط کے عہد سے بندھا ہو، پھر بھی وہ تیری طرف کھنچے گا؛ کبھی تو یہ قیامت جیسا ہو جائے گا۔
10
ज़मींगीर हो इज्ज़ से तू कि इक दिन
ये दीवार का साया दीवार होगा
زمیں گیر ہو عجز سے تو کہ اک دن
یہ دیوار کا سایہ دیوار ہوگا
اے زمینگیر! عزّت سے تو یہ یاد رکھنا کہ ایک دن، یہ دیوار کا سایہ خود ایک دیوار ہو گا۔
11
न मर कर भी छूटेगा इतना रुकेगा
तिरे दाम में जो गिरफ़्तार होगा
نہ مر کر بھی چھوٹے گا اتنا رکے گا
ترے دام میں جو گرفتار ہوگا
نہ مرنے پر بھی وہ اتنا نہیں رکے گا، جو تیرے دام میں گرفتار ہوگا۔
12
न पूछ अपनी मज्लिस में है 'मीर' भी याँ
जो होगा तो जैसे गुनहगार होगा
نہ پوچھ اپنی مجلس میں ہے میرؔ بھی یاں
جو ہوگا تو جیسے گنہ گار ہوگا
مَجْلِس میں یہ نہ پوچھ کہ 'میر' بھی یہاں ہے یا نہیں؛ جو بھی ہوگا، وہ گناہگار لگے گا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
