غزل
जब से ख़त है सियाह-ख़ाल की थांग
जब से ख़त है सियाह-ख़ाल की थांग
یہ غزل گہرے جذباتی درد، فراق اور محبت کے پیچیدہ موضوعات کو بیان کرتی ہے۔ اس میں زندگی کی کمزوری اور امیدوں کے ٹوٹنے کا احساس ہے، جو مسلسل جدوجہد سے تشبیہ ہے۔
نغمہ سنیں
1
जब से ख़त है सियाह-ख़ाल की थांग
तब से लुटती है हिन्द चारों दाँग
جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگ
تب سے لٹتی ہے ہند چاروں دانگ
جب سے سیاہ خال کی تھانگ کا خط آیا ہے، تب سے ہند چاروں دامن سے لوٹ رہی ہے۔
2
बात 'अमल की चली ही जाती है
है मगर औज-बिन-उनुक़ की टाँग
بات عمل کی چلی ہی جاتی ہے
ہے مگر اوج بن عنق کی ٹانگ
بات (گفتگو) کا عمل تو چل ہی جاتا ہے، مگر اوج اور انوک کے بغیر ٹانگ نہیں چل سکتی۔
3
बन जो कुछ बन सके जवानी में
रात तो थोड़ी है बहुत है साँग
بن جو کچھ بن سکے جوانی میں
رات تو تھوڑی ہے بہت ہے سانگ
اس کا مطلب ہے کہ جو کچھ بھی جوانی میں کیا جا سکتا ہے، رات کا وقت تو تھوڑا ہے، لیکن عشق کا تجربہ بہت زیادہ ہے۔
4
'इश्क़ का शोर कोई छुपता है
नाला-ए-अंदलीब है गुल-बाँग
عشق کا شور کوئی چھپتا ہے
نالۂ عندلیب ہے گلبانگ
عشق کا شور کہیں چھپتا ہے نالہِ اَندلیب میں، اور گل بَنگ ایک مہکتے ہوئے نالے جیسا ہے۔
5
उस ज़क़न में भी सब्ज़ी है ख़त की
देखो जीधर कुएँ पड़ी है भाँग
اس ذقن میں بھی سبزی ہے خط کی
دیکھو جیدھر کنوئیں پڑی ہے بھانگ
اس زَگَن میں بھی سَبزی ہے خت کی، دیکھو جیڑہ کُوے پڑی ہے بھنگ۔
6
किस तरह उन से कोई गर्म मिले
सीम-तन पिघले जाते हैं जों राँग
کس طرح ان سے کوئی گرم ملے
سیم تن پگھلے جاتے ہیں جوں رانگ
ان سے کوئی گرمی کیسے مل سکتی ہے، ان کے رنگین رنگ پگھلتے جاتے ہیں۔
7
चली जाती है हसब क़द्र-ए-बुलंद
दूर तक उस पहाड़ की है डाँग
چلی جاتی ہے حسب قدر بلند
دور تک اس پہاڑ کی ہے ڈانگ
پہاڑ کی چوٹی دور تک پھیلی ہے، اور کسی کی قدر اتنی ہی دور جاتی ہے جتنا کہ اس کی بلندی ہے۔
8
तफ़रा बातिल था तूर पर अपने
वर्ना जाते ये दौड़ हम भी फलाँग
تفرہ باطل تھا طور پر اپنے
ورنہ جاتے یہ دوڑ ہم بھی پھلانگ
تَفَرّا باطِل تھا تُر پر اپنے، ورنہ جاتے یہ دوڑ ہم بھی فَلّاغ
9
मैं ने क्या उस ग़ज़ल को सहल किया
क़ाफ़िए ही थे उस के ऊट-पटाँग
میں نے کیا اس غزل کو سہل کیا
قافیے ہی تھے اس کے اوٹ پٹانگ
میں نے کیا اُس غزل کو سہل سمجھا، کہ اُس کے قافیے ہی اوٹ-پٹاँग تھے۔
10
'मीर' बंदों से काम कब निकला
माँगना है जो कुछ ख़ुदा से माँग
میرؔ بندوں سے کام کب نکلا
مانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ
جب شعراء (یا فنکاروں) سے کام نہیں نکلتا، تو جو کچھ بھی مانگنا ہے وہ خدا سے مانگنا چاہیے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
