غزل

जो देखो मिरे शेर-ए-तर की तरफ़

जो देखो मिरे शेर-ए-तर की तरफ़
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

जो देखो मिरे शेर-ए-तर की तरफ़، गुहर کی طرف نہیں۔ میرا دل اور میری نگاہیں صرف اس فتنہ گر کی طرف ہیں۔ محبت نے اس شہر کو آگ لگا دی ہے، اور ہر چیز اسی ایک کشش کی طرف ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
जो देखो मिरे शेर-ए-तर की तरफ़ तो माइल न हो फिर गुहर की तरफ़
جو دیکھو مرے شعر تر کی طرف تو مائل نہ ہو پھر گہر کی طرف
اگر تم میری شیر جیسی ہستی کی طرف دیکھو، تو پھر جواہر کی طرف مائل نہ ہو۔
2
कोई दाद-ए-दिल आह किस से करे हर इक है सो उस फ़ित्ना-गर की तरफ़
کوئی داد‌ دل آہ کس سے کرے ہر اک ہے سو اس فتنہ گر کی طرف
کوئی دادِ دل آہ کس سے کرے، ہر اک ہے سو اس فتنہ گر کی طرف۔
3
मोहब्बत ने शायद कि दी दिल को आग धुआँ सा है कुछ इस नगर की तरफ़
محبت نے شاید کہ دی دل کو آگ دھواں سا ہے کچھ اس نگر کی طرف
شاید محبت نے دل کو آگ لگا دی ہے، اور اس شہر کی طرف دھواں سا کھنچاؤ ہے۔
4
लगीं हैं हज़ारों ही आँखें उधर इक आशोब है उस के घर की तरफ़
لگیں ہیں ہزاروں ہی آنکھیں ادھر اک آشوب ہے اس کے گھر کی طرف
ہزاروں آنکھیں ادھر ٹکی ہیں، اور ایک کلہاڑا اس گھر کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
5
बहुत रंग मिलता है देखो कभू हमारी तरफ़ से सहर की तरफ़
بہت رنگ ملتا ہے دیکھو کبھو ہماری طرف سے سحر کی طرف
دیکھو، چاہے ہماری طرف سے رنگ ملے یا سحر کی طرف سے، بہت رنگ ملتے ہیں۔
6
ब-ख़ुद किस को उस ताब-ए-रुख़ ने रखा करे कौन शम्स-ओ-क़मर की तरफ़
بہ خود کس کو اس تاب رخ نے رکھا کرے کون شمس و قمر کی طرف
ب-خود کس کو اس تابِ رُخ نے رکھا، کرے کون شمس و قمر کی طرف۔
7
न समझा गया अब्र क्या देख कर हुआ था मिरी चश्म-ए-तर की तरफ़
نہ سمجھا گیا ابر کیا دیکھ کر ہوا تھا مری چشم تر کی طرف
ابَر نہیں سمجھا کہ دیکھ کر کیا ہوا، / ہوا تھا میری چشمِ تر کی طرفہ۔
8
टपकता है पलकों से ख़ूँ मुत्तसिल नहीं देखते हम जिगर की तरफ़
ٹپکتا ہے پلکوں سے خوں متصل نہیں دیکھتے ہم جگر کی طرف
پتکوں سے خون مسلسل ٹپک رہا ہے، پھر بھی ہم دل کی طرف نہیں دیکھتے۔
9
मुनासिब नहीं हाल-ए-आशिक़ से सब्र रखे है ये दारू ज़रर की तरफ़
مناسب نہیں حال عاشق سے صبر رکھے ہے یہ دارو ضرر کی طرف
محبت کے حال سے صبر مناسب نہیں ہے، یہ شراب نشے کے جام کی طرف ہے۔
10
किसे मंज़िल-ए-दिलकश-ए-दहर में नहीं मील ख़ातिर सफ़र की तरफ़
کسے منزل دل کش دہر میں نہیں میل خاطر سفر کی طرف
کسے منزلِ دلکشِ دہر میں نہیں میل خاطر سفر کی طرف
11
रग-ए-जाँ कब आती है आँखों में 'मीर' गए हैं मिज़ाज उस कमर की तरफ़
رگ جاں کب آتی ہے آنکھوں میں میرؔ گئے ہیں مزاج اس کمر کی طرف
رگِ جان کب آنکھوں میں آئے گی، اے میر؟ مزاج اس کمر کی طرف چلا گیا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.