غزل
क्या कहिए कि ख़ूबाँ ने अब हम में है क्या रखा
क्या कहिए कि ख़ूबाँ ने अब हम में है क्या रखा
یہ غزل ایک طرح کے فریب اور مایوسی کا اظہار کرتی ہے، اور خوب کے اثر سے خود میں کیا باقی ہے، اس پر سوال اٹھاتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ چشمانِ سیاہ نے بہتوں کو سُلا دیا ہے، اور زمانے نے گل-فول کو پردہ بنا رکھا ہے۔ یہ زندگی کی فانی نوعیت اور وہ دکھ بیان کرتی ہے جو وہم اور وقت کے ہاتھوں دل کو ہوتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
क्या कहिए कि ख़ूबाँ ने अब हम में है क्या रखा
इन चश्म-सियाहों ने बहुतों को सुला रखा
کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا
ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا
کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا، ان چشم-سیاہوں نے بہتوں کو سُلا رکھا۔
2
जल्वा है उसी का सब गुलशन में ज़माने के
गुल फूल को है उन ने पर्दा सा बना रखा
جلوہ ہے اسی کا سب گلشن میں زمانے کے
گل پھول کو ہے ان نے پردہ سا بنا رکھا
سب گلشن میں اسی کا ہی جلوہ ہے، اور زمانے کے پھولوں کو انہوں نے ایک پردہ سا بنا رکھا ہے۔
3
जूँ बर्ग ख़िज़ाँ-दीदा सब ज़र्द हुए हम तो
गर्मी ने हमें दिल की आख़िर को जला रखा
جوں برگ خزاں دیدہ سب زرد ہوئے ہم تو
گرمی نے ہمیں دل کی آخر کو جلا رکھا
جو برگ خزان-دیدا سب زرد ہوئے ہم تو؛ گرمی نے ہمیں دل کی آخری کو جلا رکھا۔
4
कहिए जो तमीज़ उस को कुछ अच्छे बुरे की हो
दिल जिस कसो का पाया चट उन ने उड़ा रखा
کہیے جو تمیز اس کو کچھ اچھے برے کی ہو
دل جس کسو کا پایا چٹ ان نے اڑا رکھا
کہیں جو تмиз اُس کو کچھ اچھے برے کی ہو، / دل جس کسو کا پایا چٹ اُن نے اڑا رکھا۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ تہذیب کیا ہے، چاہے وہ اچھی ہو یا بری؛ انہوں نے اس دل کا پنجرہ اڑا دیا ہے جسے کیسے بنایا گیا تھا۔
5
थी मस्लक-ए-उल्फ़त की मशहूर ख़तरनाकी
मैं दीदा-ओ-दानिस्ता किस राह में पा रखा
تھی مسلک الفت کی مشہور خطرناکی
میں دیدہ و دانستہ کس راہ میں پا رکھا
تھی مسلکِٔ اُلفت کی مشہور خطرناکی، میں دیدہ و دانستہ کس راہ میں پا رکھا
6
ख़ुर्शीद-ओ-क़मर प्यारे रहते हैं छुपे कोई
रुख़्सारों को गो तू ने बुर्क़ा से छुपा रखा
خورشید و قمر پیارے رہتے ہیں چھپے کوئی
رخساروں کو گو تو نے برقع سے چھپا رکھا
شعر کہتا ہے کہ خورشید و قمر پیارے ہیں جو کہیں چھپے رہتے ہیں، مگر تو نے اپنے پیارے رخساروں کو پردے سے چھپا رکھا ہے۔
7
चश्मक ही नहीं ताज़ी शेवे ये उसी के हैं
झमकी सी दिखा दे कर आलम को लगा रखा
چشمک ہی نہیں تازی شیوے یہ اسی کے ہیں
جھمکی سی دکھا دے کر عالم کو لگا رکھا
چشمک ہی نہیں تازے شِوے یہ اُسی کے ہیں، جھمکی سی دکھا دے کر عالم کو لگا رکھا۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ یہ تازہ، خوبصورت پلکیں صرف تمہاری نہیں ہیں، بلکہ پورے عالم نے ایسا سجا رکھا ہے جیسے یہ تمہاری ہی ہوں۔
8
लगने के लिए दिल के छिड़का था नमक मैं ने
सौ छाती के ज़ख़्मों ने कल देर मज़ा रखा
لگنے کے لیے دل کے چھڑکا تھا نمک میں نے
سو چھاتی کے زخموں نے کل دیر مزہ رکھا
دل کو نمک کا ذائقہ دینے کے لیے میں نے چھڑکا، اور سو چھاتیوں کے زخموں نے کل دیر تک مزہ رکھا۔
9
कुश्ते को इस अबरू के क्या मेल हो हस्ती की
मैं ताक़ बुलंद ऊपर जीने को उठा रखा
کشتے کو اس ابرو کے کیا میل ہو ہستی کی
میں طاق بلند اوپر جینے کو اٹھا رکھا
इस گندے کپڑے کا انسان کے وجود سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ میں نے بہت اونچی جگہ پر زندگی گزارنے کے لیے خود کو سنوار رکھا ہے۔
10
क़तई है दलील ऐ 'मीर' उस तेग़ की बे-आबी
रहम उन ने मिरे हक़ में मुतलक़ न रवा रखा
قطعی ہے دلیل اے میرؔ اس تیغ کی بے آبی
رحم ان نے مرے حق میں مطلق نہ روا رکھا
یعنی، اے میر، اس تلوار کی پیاس سے کوئی دلیل نہیں ہے؛ انہوں نے میرے حق میں رحم کو مطلق نہیں رکھا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
