غزل

गिला नहीं है हमें अपनी जाँ-गुदाज़ी का

गिला नहीं है हमें अपनी जाँ-गुदाज़ी का
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل محبت میں ہونے والی گہری اور پیچیدہ زخموں کو قبول کرنے کا موضوع ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اسے اپنی بے وفائی پر کوئی شکایت نہیں، نہ ہی محبوب کی زبان سے لگے زخموں پر۔ یہ محبت کی ایسی حالت بیان کرتی ہے جو فضول خرچی اور درد کا امتزاج ہے، جہاں درد بھی ایک طرح کا شوق بن چکا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
गिला नहीं है हमें अपनी जाँ-गुदाज़ी का जिगर पे ज़ख़्म है उस की ज़बाँ-दराज़ी का
گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا
ہمیں اپنی خود کی تکلیف کا کوئی شکایت نہیں ہے، مگر ہمارا دل اس کی زبان کے زہر سے زخمی ہے۔
2
समंद-ए-नाज़ ने उस के जहाँ किया पामाल वही है अब भी उसे शौक़ तर्क ताज़ी का
سمند ناز نے اس کے جہاں کیا پامال وہی ہے اب بھی اسے شوق ترک تازی کا
سمندِ ناز نے اس کے جہاں کو پامال کیا، مگر اسے اب بھی تازہ منطق کا شوق ہے۔
3
सितम हैं क़हर हैं लौंडे शराब-ख़ाने के उतार लेते हैं अमामा हर नमाज़ी का
ستم ہیں قہر ہیں لونڈے شراب خانے کے اتار لیتے ہیں عمامہ ہر نمازی کا
شرب خانے کے لڑکوں کا ظلم اور غصہ اتنا ہے کہ وہ ہر نماز پڑھنے والے کا عمامہ اتار دیتے ہیں۔
4
उलट-पलट मिरी आह-ए-सहर की क्या है कम अगर ख़याल तुम्हें होवे नेज़ा-बाज़ी का
الٹ پلٹ مری آہ سحر کی کیا ہے کم اگر خیال تمہیں ہووے نیزہ بازی کا
اُلت-پلٹ میری آہِ سحر کی کیا ہے کم، اگر خیال تمہیں ہوے نیزہ بازی کا۔ (مطلب: جب ذہن کا خیال نیزے کی مہارت کی طرف ہو، تو صبح کی ہوا کی ہلکی سی شکایت کیا حیثیت رکھتی ہے۔)
5
बताओ हम से कोई आन तुम से क्या बिगड़ी नहीं है तुम को सलीक़ा ज़माना-साज़ी का
بتاؤ ہم سے کوئی آن تم سے کیا بگڑی نہیں ہے تم کو سلیقہ زمانہ سازی کا
بتاؤ ہمیں کوئی بات، تم سے کیا بگڑی ہے؟ تم کو دنیا داری کا سلیقہ نہیں ہے۔
6
ख़ुदा को काम तो सौंपे हैं मैं ने सब लेकिन रहे है ख़ौफ़ मुझे वाँ की बे-नियाज़ी का
خدا کو کام تو سونپے ہیں میں نے سب لیکن رہے ہے خوف مجھے واں کی بے نیازی کا
میں نے سب کچھ خدا کے سپرد کر دیا ہے، لیکن مجھے دنیا کی بے نیازی کا خوف ہے۔
7
चलो हो राह-ए-मुआफ़िक़ कहे मुख़ालिफ़ के तरीक़ छोड़ दिया तुम ने दिल-नवाज़ी का
چلو ہو راہ موافق کہے مخالف کے طریق چھوڑ دیا تم نے دل نوازی کا
چلو ہو راہِ موافق کہے مخالف کے طریقہ چھوڑ دیا تم نے دل نوازی کا۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ آؤ، ہم اس راستے پر چلیں جو مخالف کے کہے ہوئے طریقے سے متفق ہو؛ تم نے دل کو بہلانے کا طریقہ چھوڑ دیا ہے۔
8
कसो की बात ने आगे मिरे न पाया रंग दिलों में नक़्श है मेरी सुख़न-तराज़ी का
کسو کی بات نے آگے مرے نہ پایا رنگ دلوں میں نقش ہے میری سخن طرازی کا
کسو کی بات نے آگے میرے نہ پایا رنگ دلوں میں نقش ہے میری سخن-ترازی کا
9
बसान-ए-ख़ाक हो पामाल राह-ए-ख़ल्क़ ऐ 'मीर' रखे है दिल में अगर क़स्द सरफ़राज़ी का
بسان خاک ہو پامال راہ خلق اے میرؔ رکھے ہے دل میں اگر قصد سرفرازی کا
اے میر، اگر دل میں شہرت کی آرزو ہے تو انسانوں کا راستہ دھول کا نہاﺅ بن جائے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.