غزل

ग़लत है इश्क़ में ऐ बुल-हवस अंदेशा राहत का

ग़लत है इश्क़ में ऐ बुल-हवस अंदेशा राहत का
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ عشق میں کسی بھی راحت کا اندازہ لگانا غلط ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس دنیا میں صرف درد، داغ، رنج اور تکلیف کا رواج ہے۔ وہ محبوب کے دیوانے پن اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کے درمیان محبت کی فانی اور غیر مستحکم نوعیت کو بیان کرتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
ग़लत है इश्क़ में ऐ बुल-हवस अंदेशा राहत का रिवाज इस मुल्क में है दर्द-ओ-दाग़-ओ-रंज-ओ-कुलफ़त का
غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کا رواج اس ملک میں ہے درد و داغ و رنج و کلفت کا
اے بے قرار دل، عشق میں سکون کی امید کرنا غلط ہے؛ اس ملک کا رواج درد، داغ، غم اور تکلیف کا ہے۔
2
ज़मीं इक सफ़्हा-ए-तस्वीर बे-होशाँ से माना है ये मज्लिस जब से है अच्छा नहीं कुछ रंग सोहबत का
زمیں اک صفحۂ تصویر بیہوشاں سے مانا ہے یہ مجلس جب سے ہے اچھا نہیں کچھ رنگ صحبت کا
زمین کو ایک بے ہوش تصویر کا صفحہ مانا گیا ہے۔ یہ محفل جب سے ہے، صحبت کے رنگ اچھے نہیں ہیں۔
3
जहाँ जल्वे से उस महबूब के यकसर लबालब है नज़र पैदा कर अव्वल फिर तमाशा देख क़ुदरत का
جہاں جلوے سے اس محبوب کے یکسر لبالب ہے نظر پیدا کر اول پھر تماشا دیکھ قدرت کا
جہاں محبوب کے جلوے سے کثرت بہہ رہا ہے، پہلے ایک نظر پیدا کر، پھر قدرت کا تماشا دیکھ۔
4
हनूज़ आवारा-ए-लैला है जान-ए-रफ़्ता मजनूँ की मूए पर भी रहा होता नहीं वाबस्ता उल्फ़त का
ہنوز آوارۂ لیلیٰ ہے جان رفتہ مجنوں کی موئے پر بھی رہا ہوتا نہیں وابستہ الفت کا
مجنوں کی گزری ہوئی روح اب بھی لیلیٰ کے لیے بھٹک رہی ہے۔ محبت کا لگاؤ ایک بال پر بھی نہیں ٹھہرتا۔
5
हरीफ़-ए-बे-जिगर है सब्र वर्ना कल की सोहबत में नियाज़-ओ-नाज़ का झगड़ा गिरो था एक जुरअत का
حریف بے جگر ہے صبر ورنہ کل کی صحبت میں نیاز و ناز کا جھگڑا گرو تھا ایک جرأت کا
ہر کوئی بے جگر ہے، صبر کے بغیر؛ کیونکہ کل کی صحبت میں بھی نِیاز و ناز کا جھگڑا تھا، اور ایک جُرات کی ضرورت تھی۔
6
निगाह-ए-यास भी इस सैद-ए-अफ़्गन पर ग़नीमत है निहायत तंग है ऐ सैद-ए-बिस्मिल वक़्त फ़ुर्सत का
نگاہ یاس بھی اس صید افگن پر غنیمت ہے نہایت تنگ ہے اے صید بسمل وقت فرصت کا
نگاہِ یاس بھی اِس سیدِ افغان پر گنیمت ہے، اور نہایت تنگ ہے اے سیدِ بسمیل وقت فرصت کا۔ (مطلب: अफगान کے اس سید پر مایوسی کی نظر بھی ایک نعمت ہے، جبکہ بسمیل کے سید کو بہت زیادہ وقت کی فرصت کی ضرورت ہے۔)
7
ख़राबी दिल की इस हद है कि ये समझा नहीं जाता कि आबादी भी याँ थी या कि वीराना था मुद्दत का
خرابی دل کی اس حد ہے کہ یہ سمجھا نہیں جاتا کہ آبادی بھی یاں تھی یا کہ ویرانہ تھا مدت کا
دل کی خرابی اس حد تک ہے کہ یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ جگہ پہلے آباد تھی یا یہ طویل عرصے تک ویران رہی۔
8
निगाह-ए-मस्त ने उस की लुटाई ख़ानका सारी पड़ा है बरहम अब तक कारख़ाना ज़ोहद-ओ-ताअत का
نگاہ مست نے اس کی لٹائی خانقہ ساری پڑا ہے برہم اب تک کارخانہ زہد و طاعت کا
مستی بھرے نگاہ نے اس کی پوری خانقاہ لوٹا دی، اور اب زہد و اطاعت کا کارخانہ ویران پڑا ہے۔
9
क़दम टक देख कर रख 'मीर' सर दिल से निकालेगा पलक से शोख़-तर काँटा है सहरा-ए-मोहब्बत का
قدم ٹک دیکھ کر رکھ میرؔ سر دل سے نکالے گا پلک سے شوخ تر کانٹا ہے صحرائے محبت کا
آپ کے قدم دیکھ کر 'میر' دل سے اپنا پردہ اٹھائے گا۔ محبت کے صحرا کا کانٹا پلک سے زیادہ دلکش ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.