غزل
दिल पहुँचा हलाकी को निपट खींच कसाला
दिल पहुँचा हलाकी को निपट खींच कसाला
یہ غزل ایک گہرے اور دردناک محبت کے تجربے کو بیان کرتی ہے، جس میں شاعر اپنے دل کے ٹوٹنے اور شدید جذباتی تکلیف کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اس کا دل ایک ایسی حالت میں پہنچ گیا ہے جہاں سے اسے کوئی نہیں کھینچ سکتا، اور یہ سب ایک پیچیدہ اور دردناک رشتے کا نتیجہ ہے۔
نغمہ سنیں
1
दिल पहुँचा हलाकी को निपट खींच कसाला
ले यार मिरे सल्लमहू अल्लाह-तआला
دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالا
لے یار مرے سلمہ اللہ تعالی
میرے دل میں محبوب کی طرف اتنا شدید کھنچاؤ ہے کہ میں اپنے دوست اور اللہ دونوں کو ترک کر دوں گا۔
2
कुछ मैं नहीं उस दिल की परेशानी का बा'इस
बरहम ही मिरे हाथ लगा था ये रिसाला
کچھ میں نہیں اس دل کی پریشانی کا باعث
برہم ہی مرے ہاتھ لگا تھا یہ رسالا
میں اس دل کی پریشانی کا سبب نہیں ہوں، اور یہ رسالہ بس میری من مانی سے میرے ہاتھ لگا تھا۔
3
मा'मूर शराबों से कबाबों से है सब दैर
मस्जिद में है क्या शैख़ पियाला न निवाला
معمور شرابوں سے کبابوں سے ہے سب دیر
مسجد میں ہے کیا شیخ پیالہ نہ نوالا
مستعین شرابوں سے، کبابوں سے ہے سب دِیر؛ مسجد میں ہے کیا شیخ کا پیالہ، نہ ایک نوالہ۔
4
गुज़रे है लहू वाँ सर हर ख़ार से अब तक
जिस दश्त में फूटा है मिरे पाँव का छाला
گزرے ہے لہو واں سر ہر خار سے اب تک
جس دشت میں پھوٹا ہے مرے پاؤں کا چھالا
میرے خون نے اب تک ہر کانٹے سے گزرنا ہے، جس وادی میں میرے پاؤں کا چھالا پھٹا ہے۔
5
गर क़स्द उधर का है तो टक देख के आना
ये देर है ज़हाद न हो ख़ाना-ए-ख़ाला
گر قصد ادھر کا ہے تو ٹک دیکھ کے آنا
یہ دیر ہے زہاد نہ ہو خانۂ خالا
اگر قصد اُدھر کا ہے تو ٹِک دیکھ کے آنا؛ یہ دیر ہے زہد، نہ ہو خانۂ خلا۔
6
जिस घर में तिरे जल्वे से हो चाँदनी का फ़र्श
वाँ चादर महताब है मकड़ी का सा जाला
جس گھر میں ترے جلوے سے ہو چاندنی کا فرش
واں چادر مہتاب ہے مکڑی کا سا جالا
جس گھر میں تیرے جلوے سے چاندنی کا فرش ہے، وہ چادر مہتاب ہے جو مکڑی کے جالے جیسا ہے۔
7
दुश्मन न कुदूरत से मिरे सामने हो जो
तलवार के लड़ने को मिरे कीजो हवाला
دشمن نہ کدورت سے مرے سامنے ہو جو
تلوار کے لڑنے کو مرے کیجو حوالہ
دشمن اگر حسد یا بغض سے میرے سامنے ہو، تو مجھے تلوار سے لڑنے کے لیے بلایا کرو۔
8
नामूस मुझे साफ़ी तीनत की है वर्ना
रुस्तम ने मिरी तेग़ का हमला न सँभाला
ناموس مجھے صافی طینت کی ہے ورنہ
رستم نے مری تیغ کا حملہ نہ سنبھالا
ناموس نے مجھے صافیتِ تینت کی ہے، ورنہ رستم میری تیر کی حملے کو سنبھالا نہ۔
9
देखे है मुझे दीदा-ए-पुर-ख़श्म से वो 'मीर'
मेरे ही नसीबों में था ये ज़हर का प्याला
دیکھے ہے مجھے دیدۂ پر خشم سے وہ میرؔ
میرے ہی نصیبوں میں تھا یہ زہر کا پیالا
میں نے دیکھا ہے شہر کی آنکھوں سے، اے میر، کہ میرے اپنے نصیبوں میں تھا یہ زہر کا پیالہ۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
