غزل
इधर आ कर शिकार-अफ़्गन हमारा
इधर आ कर शिकार-अफ़्गन हमारा
یہ غزل ایک نظم کی شکل میں ہے جو عشق اور جدائی کے جذبات کو بیان کرتی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کی آمد کا انتظار کرتا ہے اور اپنے جذبات کو ایک پراسرار اور چنچل انداز میں بیان کرتا ہے۔ یہ رومانوی محبت اور گہرے عشق کے احساس کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
इधर आ कर शिकार-अफ़्गन हमारा
मुशब्बक कर गया है तन हमारा
ادھر آ کر شکار افگن ہمارا
مشبک کر گیا ہے تن ہمارا
یہاں آ کر افغان کے شکاری نے میرے جسم کو قید کر دیا ہے۔
2
गरेबाँ से रहा कोतह तो फिर है
हमारे हाथ में दामन हमारा
گریباں سے رہا کوتہ تو پھر ہے
ہمارے ہاتھ میں دامن ہمارا
اگر پولیس کو معاملے پر کوئی گرفت نہیں ہے، تو پردہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
3
गए जों शम्अ' उस मज्लिस में जितने
सभों पर हाल है रौशन हमारा
گئے جوں شمع اس مجلس میں جتنے
سبھوں پر حال ہے روشن ہمارا
جو لوگ اس محفل سے چلے گئے، ان سب پر ہمارا حال کتنا روشن لگ رہا ہے۔
4
बला जिस चश्म को कहते हैं मर्दुम
वो है ऐन-ए-बला मस्कन हमारा
بلا جس چشم کو کہتے ہیں مردم
وہ ہے عین بلا مسکن ہمارا
بیماری جسے لوگ 'حالت' کہتے ہیں، وہ دراصل ہماری بڑی مصیبت کا گھر ہے۔
5
हुआ रोने से राज़-ए-दोस्ती फ़ाश
हमारा गिर्या था दुश्मन हमारा
ہوا رونے سے راز دوستی فاش
ہمارا گریہ تھا دشمن ہمارا
رونے سے رازِ دوستی فاش ہوا، ہمارا گریہ دشمن ہمارا۔
6
बहुत चाहा था अब्र-ए-तर ने लेकिन
न मिन्नत-कश हुआ गुलशन हमारा
بہت چاہا تھا ابر تر نے لیکن
نہ منت کش ہوا گلشن ہمارا
بادلوں کی بارش نے بہت خواہش کی تھی، مگر ہمارا باغ کسی بھی گزارش کو قبول کرنے والا نہیں ہوا۔
7
चमन में हम भी ज़ंजीरी रहे हैं
सुना होगा कभू शेवन हमारा
چمن میں ہم بھی زنجیری رہے ہیں
سنا ہوگا کبھو شیون ہمارا
چمن میں ہم بھی زنجیری رہے ہیں، شاید آپ نے پہلے کبھی ہمارا گانا سنا ہو۔
8
किया था रेख़्ता पर्दा-सुख़न का
सो ठहरा है यही अब फ़न हमारा
کیا تھا ریختہ پردہ سخن کا
سو ٹھہرا ہے یہی اب فن ہمارا
میں نے کبھی رِختا پردہ-سخن کا کیا تھا، جو باقی ہے یہی اب ہمارا فن ہے۔
9
न बहके मय-कदे में 'मीर' क्यूँकर
गिरो सौ जा है पैराहन हमारा
نہ بہکے میکدے میں میرؔ کیوں کر
گرو سو جا ہے پیراہن ہمارا
میر، میرے ہار کو دریا میں کیوں گراؤ، جب میرا پَردہ زمین کے لیے ہے؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
