غزل

'आलम में कोई दिल का तलबगार न पाया

'आलम में कोई दिल का तलबगार न पाया
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل زندگی کے فریبوں اور رشتوں کی عارضی حیثیت پر گہرا اظہار ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ اس جہاں میں کوئی بھی دل سے کسی کا طالب یا چاہنے والا نہیں ملا۔ وہ یہ بھی اشارہ کرتے ہیں کہ لوگوں کو حق کو ڈھونڈنے کا طریقہ نہیں آتا، اور یہاں ہر چیز اور ہر رشتہ بے کار اور میسر نہیں ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
'आलम में कोई दिल का तलबगार न पाया इस जिंस का याँ हम ने ख़रीदार न पाया
عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایا اس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا
اس کا مطلب ہے کہ میں دنیا میں کوئی ایسا دل چاہنے والا شخص نہیں ڈھونڈ سکا، اور نہ ہی اس طرح کی چیز کا کوئی خریدار مل سکا۔
2
हक़ ढूँडने का आप को आता नहीं वर्ना 'आलम है सभी यार कहाँ यार न पाया
حق ڈھونڈنے کا آپ کو آتا نہیں ورنہ عالم ہے سبھی یار کہاں یار نہ پایا
اس کا مطلب ہے کہ آپ کو سچائی (حَق) تلاش کرنا نہیں آتا، کیونکہ تمام جہان دوست ہیں، مگر دوست کہاں مل سکتا ہے۔
3
ग़ैरों ही के हाथों में रहे दस्त-ए-निगारीं कब हम ने तिरे हाथ से आज़ार न पाया
غیروں ہی کے ہاتھوں میں رہے دست نگاریں کب ہم نے ترے ہاتھ سے آزار نہ پایا
نِگاری کا یہ فن میں نے اجنبیوں کے ہاتھوں میں دے دیا، وہ سکون کب ملے گا جو مجھے تمہارے ہاتھ سے نہیں ملا؟
4
जाती है नज़र ख़स पे गह-ए-चश्म परीदन याँ हम ने पर-ए-काह भी बे-कार न पाया
جاتی ہے نظر خس پہ گہہ چشم پریدن یاں ہم نے پر کاہ بھی بے کار نہ پایا
نظر خس پر گہ-ئے چشم پردین جاتی ہے، اور ہم نے پر-ئے کاح بھی بے کار نہ پایا۔
5
तस्वीर के मानिंद लगे दर ही से गुज़री मज्लिस में तिरी हम ने कभू बार न पाया
تصویر کے مانند لگے در ہی سے گزری مجلس میں تری ہم نے کبھو بار نہ پایا
تصویر کے مانند لگے در ہی سے گزری، مجلس میں تیری ہم نے کبھی بار نہ پایا۔
6
सूराख़ है सीने में हर इक शख़्स के तुझ से किस दिल के तरह तीर-ए-निगह पार न पाया
سوراخ ہے سینے میں ہر اک شخص کے تجھ سے کس دل کے طرح تیر نگہ پار نہ پایا
ہر اک شخص کے سینے میں تجھ سے ایک سوراخ ہے؛ کس دل کے لیے نظر کا تیر پار نہ پایا۔
7
मरबूत हैं तुझ से भी यही नाक्स-ओ-नाअहल उस बाग़ में हम ने गुल-ए-बे-ख़ार न पाया
مربوط ہیں تجھ سے بھی یہی ناکس و نااہل اس باغ میں ہم نے گل‌ بے خار نہ پایا
ہمیں تم سے بھی یہ یقین ہے کہ کوئی غم یا پریشانی نہیں ہے، مگر اس باغ میں ہمیں کاٹے کے بغیر کوئی پھول نہ ملا۔
8
दम बा'द जुनूँ मुझ में न महसूस था या'नी जामे में मिरे यारों ने इक तार न पाया
دم بعد جنوں مجھ میں نہ محسوس تھا یعنی جامے میں مرے یاروں نے اک تار نہ پایا
یا یعنی، میرے دوستوں، کیا مجھ میں جنون کا نشہ نہیں تھا، یا میرے دوستوں نے میرے جام میں کوئی سر نہیں پایا؟
9
आईना भी हैरत से मोहब्बत की हुए हम पर सैर हो इस शख़्स का दीदार न पाया
آئینہ بھی حیرت سے محبت کی ہوئے ہم پر سیر ہو اس شخص کا دیدار نہ پایا
آئینہ بھی حیرت سے محببت کی ہوئے ہم پر سیر ہو اِس شخص کا دیدار نہ پایا
10
वो खींच के शमशीर सितम रह गया जो 'मीर' ख़ूँ-रेज़ी का याँ कोई सज़ा-वार न पाया
وہ کھینچ کے شمشیر ستم رہ گیا جو میرؔ خوں ریزی کا یاں کوئی سزاوار نہ پایا
وہ کھینچ کے شمشیر ستم رہ گیا جو 'میر'، خونریزی کا یا کوئی سزا وار نہ پایا۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ جو شخص تلوار نکال کر ظلم کرتا ہے، 'میر'، خونریزی کا کوئی سزا دینے والا نہیں ملتا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

'आलम में कोई दिल का तलबगार न पाया | Sukhan AI