Sukhan AI
वो खींच के शमशीर सितम रह गया जो 'मीर' ख़ूँ-रेज़ी का याँ कोई सज़ा-वार पाया

The one who pulled the sword, the cruelty remained, 'Mir', No one could find a punishment for the bloodshed.

میر تقی میر
معنی

وہ کھینچ کے شمشیر ستم رہ گیا جو 'میر'، خونریزی کا یا کوئی سزا وار نہ پایا۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ جو شخص تلوار نکال کر ظلم کرتا ہے، 'میر'، خونریزی کا کوئی سزا دینے والا نہیں ملتا۔

تشریح

یہ شعر ظلم کی بے باک اور شدید نوعیت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ ستم کی شمشیر تو کھنچ گئی، مگر ایسا کوئی سزاوار نہیں ملا جو اس خونریزی کو سزا دے سکے۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

← Prev10 / 10