Sukhan AI
غزل

ख़त से वो ज़ोर सफ़ा-ए-हुस्न अब कम हो गया

ख़त से वो ज़ोर सफ़ा-ए-हुस्न अब कम हो गया
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ حسن کا زور اور چمک پہلے جیسا نہیں رہا۔ یوسف کی چاہ اب رستم کی چاہ میں بدل گئی ہے۔ یہ کہتی ہے کہ ایک ایسا عالم جو کبھی مکمل نہیں تھا، اب ایک ہی حالت میں سمٹ گیا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ख़त से वो ज़ोर सफ़ा-ए-हुस्न अब कम हो गया चाह-ए-यूसुफ़ था ज़क़न सो चाह-ए-रुसतम हो गया
ख़त से वो ज़ोर सफ़ा-ए-हुस्न अब कम हो गया, चाह-ए-यूसुफ़ था ज़क़न सो चाह-ए-रुसतम हो गया। اس کا مطلب ہے کہ خط سے حُسن کے پردے کا زور اب کم ہو گیا ہے، اور جو چاہت پہلے یوسف جیسی تھی، وہ اب رستم جیسی ہو گئی ہے۔
2
सीना-कोबी-ए-संग से दिल-ए-ख़ून होने में रही हक़-ब-जानिब था हमारे सख़्त मातम हो गया
سینہ کی کوبی اور خون کے دل سے، میں مقدر سے غم کرنے کو تھا، مگر وہ (یا میرا وہ مقام) کھو گیا ہے۔
3
एक सा आलम नहीं रहता है उस आलम के बीच अब जहाँ कोई नहीं याँ एक आलम हो गया
اس عالم میں ایک جیسا ماحول نہیں رہتا ہے؛ اب ایک ایسا عالم ہو گیا ہے جہاں کوئی نہیں اور وہ ایک ہی ماحول ہے۔
4
आँख के लड़ते तिरी आशोब सा बरपा हुआ ज़ुल्फ़ के दिरहम हुए इक जम्अ' बरहम हो गया
تیری زُلفیں آنکھوں کے لیے کسی جنگ کے میدان کی طرح بکھری ہوئی تھیں، اور تیرے بال ایک جمع کیے ہوئے خزانے کی طرح تھے، جس سے میرا دل بے حس ہو گیا۔
5
उस लब-ए-जाँ-बख़्श की हसरत ने मारा जान से आब-ए-हैवाँ यमन-ए-तालेअ' से मिरे सम हो गया
اس لبِ جان بخش کی حسرت نے مارا جان سے؛ آبِ حیوان یمنِ طلوع سے میرے سم ہو گیا۔
6
वक़्त तब तक था तो सज्दा मस्जिदों में कुफ़्र था फ़ाएदा अब जब कि क़द मेहराब सा ख़म हो गया
شعر کہتا ہے کہ جب وقت تھا تو مساجد میں سجدے کے باوجود کفر تھا؛ اب جب کہ ایمان کا ستون (قد) محراب سا خم ہو گیا ہے، تو اس کا کیا فائدہ ہے۔
7
इश्क़ उन शहरी ग़ज़ालों का जुनूँ को अब खिंचा वहशत-ए-दिल बढ़ गई आराम-ए-जाँ रम हो गया
عشق ان شہری غزلوں کا جنون بن کر اب کھینچ گیا؛ وہشتِ دل بڑھ گئی اور آرامِ جان رَم ہو گیا۔
8
जी खिंचे जाते हैं फ़र्त-ए-शौक़ से आँखों की और जिन ने देखा एक-दम उस को सो बे-दम हो गया
آنکھیں چاہت کے بہاؤ سے کھینچ جاتی ہیں، اور جن نے اسے دیکھا وہ فوراً بے جان ہو گئے۔
9
हम ने जो कुछ उस से देखा सो ख़िलाफ़-ए-चश्म-ए-दाशत अपना इज़राईल वो जान मुजस्सम हो गया
ہم نے جو کچھ اُس سے دیکھا، وہ میری آنکھ کے سامنے تھا، اور میرا اپنا اسرائیل ایک جاندار جسم بن گیا۔
10
क्या कहूँ क्या तरहें बदलें चाह ने आख़िर को 'मीर' था गिरह जो दर्द छाती में सो अब ग़म हो गया
کیا کہوں، کیا طریقے بدلیں، چاہ کے آخر کو، اے میر؟ وہ گُتھی جو درد سینے میں تھی، اب غم ہو گئی۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.