غزل
ख़त से वो ज़ोर सफ़ा-ए-हुस्न अब कम हो गया
ख़त से वो ज़ोर सफ़ा-ए-हुस्न अब कम हो गया
یہ غزل بتاتی ہے کہ حسن کا زور اور چمک پہلے جیسا نہیں رہا۔ یوسف کی چاہ اب رستم کی چاہ میں بدل گئی ہے۔ یہ کہتی ہے کہ ایک ایسا عالم جو کبھی مکمل نہیں تھا، اب ایک ہی حالت میں سمٹ گیا ہے۔
نغمہ سنیں
1
ख़त से वो ज़ोर सफ़ा-ए-हुस्न अब कम हो गया
चाह-ए-यूसुफ़ था ज़क़न सो चाह-ए-रुसतम हो गया
خط سے وہ زور صفائے حسن اب کم ہو گیا
چاہ یوسف تھا ذقن سو چاہ رستم ہو گیا
ख़त से वो ज़ोर सफ़ा-ए-हुस्न अब कम हो गया, चाह-ए-यूसुफ़ था ज़क़न सो चाह-ए-रुसतम हो गया। اس کا مطلب ہے کہ خط سے حُسن کے پردے کا زور اب کم ہو گیا ہے، اور جو چاہت پہلے یوسف جیسی تھی، وہ اب رستم جیسی ہو گئی ہے۔
2
सीना-कोबी-ए-संग से दिल-ए-ख़ून होने में रही
हक़-ब-जानिब था हमारे सख़्त मातम हो गया
سینہ کوبی سنگ سے دل خون ہونے میں رہی
حق بہ جانب تھا ہمارے سخت ماتم ہو گیا
سینہ کی کوبی اور خون کے دل سے، میں مقدر سے غم کرنے کو تھا، مگر وہ (یا میرا وہ مقام) کھو گیا ہے۔
3
एक सा आलम नहीं रहता है उस आलम के बीच
अब जहाँ कोई नहीं याँ एक आलम हो गया
ایک سا عالم نہیں رہتا ہے اس عالم کے بیچ
اب جہاں کوئی نہیں یاں ایک عالم ہو گیا
اس عالم میں ایک جیسا ماحول نہیں رہتا ہے؛ اب ایک ایسا عالم ہو گیا ہے جہاں کوئی نہیں اور وہ ایک ہی ماحول ہے۔
4
आँख के लड़ते तिरी आशोब सा बरपा हुआ
ज़ुल्फ़ के दिरहम हुए इक जम्अ' बरहम हो गया
آنکھ کے لڑتے تری آشوب سا برپا ہوا
زلف کے درہم ہوئے اک جمع برہم ہو گیا
تیری زُلفیں آنکھوں کے لیے کسی جنگ کے میدان کی طرح بکھری ہوئی تھیں، اور تیرے بال ایک جمع کیے ہوئے خزانے کی طرح تھے، جس سے میرا دل بے حس ہو گیا۔
5
उस लब-ए-जाँ-बख़्श की हसरत ने मारा जान से
आब-ए-हैवाँ यमन-ए-तालेअ' से मिरे सम हो गया
اس لب جاں بخش کی حسرت نے مارا جان سے
آب حیواں یمن طالع سے مرے سم ہو گیا
اس لبِ جان بخش کی حسرت نے مارا جان سے؛ آبِ حیوان یمنِ طلوع سے میرے سم ہو گیا۔
6
वक़्त तब तक था तो सज्दा मस्जिदों में कुफ़्र था
फ़ाएदा अब जब कि क़द मेहराब सा ख़म हो गया
وقت تب تک تھا تو سجدہ مسجدوں میں کفر تھا
فائدہ اب جب کہ قد محراب سا خم ہو گیا
شعر کہتا ہے کہ جب وقت تھا تو مساجد میں سجدے کے باوجود کفر تھا؛ اب جب کہ ایمان کا ستون (قد) محراب سا خم ہو گیا ہے، تو اس کا کیا فائدہ ہے۔
7
इश्क़ उन शहरी ग़ज़ालों का जुनूँ को अब खिंचा
वहशत-ए-दिल बढ़ गई आराम-ए-जाँ रम हो गया
عشق ان شہری غزالوں کا جنوں کو اب کھنچا
وحشت دل بڑھ گئی آرام جاں رم ہو گیا
عشق ان شہری غزلوں کا جنون بن کر اب کھینچ گیا؛ وہشتِ دل بڑھ گئی اور آرامِ جان رَم ہو گیا۔
8
जी खिंचे जाते हैं फ़र्त-ए-शौक़ से आँखों की और
जिन ने देखा एक-दम उस को सो बे-दम हो गया
جی کھنچے جاتے ہیں فرط شوق سے آنکھوں کی اور
جن نے دیکھا ایک دم اس کو سو بے دم ہو گیا
آنکھیں چاہت کے بہاؤ سے کھینچ جاتی ہیں، اور جن نے اسے دیکھا وہ فوراً بے جان ہو گئے۔
9
हम ने जो कुछ उस से देखा सो ख़िलाफ़-ए-चश्म-ए-दाशत
अपना इज़राईल वो जान मुजस्सम हो गया
ہم نے جو کچھ اس سے دیکھا سو خلاف چشم داشت
اپنا عزرائیل وہ جان مجسم ہو گیا
ہم نے جو کچھ اُس سے دیکھا، وہ میری آنکھ کے سامنے تھا، اور میرا اپنا اسرائیل ایک جاندار جسم بن گیا۔
10
क्या कहूँ क्या तरहें बदलें चाह ने आख़िर को 'मीर'
था गिरह जो दर्द छाती में सो अब ग़म हो गया
کیا کہوں کیا طرحیں بدلیں چاہ نے آخر کو میرؔ
تھا گرہ جو درد چھاتی میں سو اب غم ہو گیا
کیا کہوں، کیا طریقے بدلیں، چاہ کے آخر کو، اے میر؟ وہ گُتھی جو درد سینے میں تھی، اب غم ہو گئی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
