اس لب جاں بخش کی حسرت نے مارا جان سے — میر تقی میر

اس لب جاں بخش کی حسرت نے مارا جان سے آب حیواں یمن طالع سے مرے سم ہو گیا

“From the longing of that life-giving lip, my life was taken; my existence became like the waters of Yemen's spring.”

— میر تقی میر

معنی

اس لبِ جان بخش کی حسرت نے مارا جان سے؛ آبِ حیوان یمنِ طلوع سے میرے سم ہو گیا۔

تشریح

یہ شعر شدید اور مہلک چاہت کا اظہار ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ محبوب کے وہ جان بخش ہونٹ کی ہوس نے انہیں تقریباً ہلاک کر دیا، اور جنت کا آب بھی ان کی تڑپ بجھانے کے لیے کافی نہیں تھا۔ یہ ایک مکمل، بے قابو عشق کا اعتراف ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.