خط سے وہ زور صفائے حسن اب کم ہو گیا — میر تقی میر

خط سے وہ زور صفائے حسن اب کم ہو گیا چاہ یوسف تھا ذقن سو چاہ رستم ہو گیا

“From the letter, the strength of your beauty's veil has now lessened, The desire for Joseph was like that, now it has become the desire for Rustam.”

— میر تقی میر

معنی

ख़त से वो ज़ोर सफ़ा-ए-हुस्न अब कम हो गया, चाह-ए-यूसुफ़ था ज़क़न सो चाह-ए-रुसतम हो गया। اس کا مطلب ہے کہ خط سے حُسن کے پردے کا زور اب کم ہو گیا ہے، اور جو چاہت پہلے یوسف جیسی تھی، وہ اب رستم جیسی ہو گئی ہے۔

تشریح

یہ شعر عشق کے بدلتے ہوئے رنگ کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ حسن کی وہ نفاست جو خط سے جھلکتی تھی، کم ہو گئی ہے۔ یوسف کی محبت کی لطافت، اب رستم کی طاقتور اور شدید خواہش میں بدل گئی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 10Next →